73

علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں جیلوں میں مقید افراد، معذور افراد، ڈراپ آؤٹ گرلز اور خواجہ سرا کو مفت تعلیم دینے کا فیصلہ

*علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں جیلوں میں مقید افراد، معذور افراد، ڈراپ آؤٹ گرلز اور خواجہ سرا کو مفت تعلیم دینے کا فیصلہ*

لاھور : علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی نے ملک کے محروم طبقات کی چار کٹیگریز کو مفت تعلیمی سہولیات دینے کا فیصلہ کیا ہے

ان کٹیگریز میں جیلوں میں مقید افراد، معذور افراد، ڈراپ آئوٹ گرلز اور خواجہ سرا کمیونٹی شامل ہیں ۔

یونیورسٹی کے ترجمان کے مطابق یونیورسٹی نے قبائلی علاقہ جات اور بلوچستان کے طلبہ کو میٹرک کی مفت تعلیم فراہم کرنے کا منصوبہ بھی شروع کررکھا ہے۔

سمسٹر بہار 2020ء کے داخلے جاری ہیں میٹرک، ایف اے،چھ ماہ دورانیہ کے سرٹیفیکیٹ اور اوپن ٹیک کورسسز میں داخلہ فارم جمع کرانے کی آخری تاریخ 21 فروری ہے

پی ایچ ڈی،ایم ایس /ایم فل،ایم ایس سی اور بی ایس فیس ٹو فیس پروگرامز میں داخلہ فارم جمع کرانے کی آخری تاریخ 14فروری مقرر کی گئی ہے۔

ملک بھر میں رہنے والے کسی بھی جسمانی معذوری میں مبتلا افرادْ ڈراپ آئوٹ گرلز اور خواجہ سراء کمیونٹی کو اِن مفت تعلیمی منصوبوں سے مستفید ہونے کے لئے یونیورسٹی کے قریب ترین ریجنل آفس سے رابطہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے

جیلوں میں مقید افراد کو داخلہ فارم اور پراسپکٹس جیلوں کے اندر مفت فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ضیاء القیوم نے توقع ظاہر کی ہے کہ قبائلی علاقہ جات / بلوچستان کے عوام اور ان کٹیگریز کے افراد یونیورسٹی کی مفت تعلیمی منصوبوں سے بھر پور فائدہ اٹھائیں گے

انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کی کوشش ہے کہ ان طبقات سے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو تعلیمی نیٹ میں شامل کیا جائے۔

منصوبے کے تحت ملک بھر میں رہنے والے خواجہ سرا میٹرک سے پی ایچ ڈی مختصر دورانیہ کے زرعی، ٹیکنیکل اور ووکیشنل کورسسز کے کسی بھی پروگرام میں داخلہ لے سکتے ہیں اور ان سے کسی قسم کی فیس وصول نہیں کی جائے گی ۔

مجرموں کے اخلا ق و کردار کی اس طرز پر اصلاح کرنا کہ وہ اپنی قید کی مدت کاٹنے کے بعد معاشرے میں ایک مہذب و مفید اور مثبت شہری کے طور پر ایک نئی زندگی کا آغاز کرسکیں

اس مقصد کے حصول کے لئے یونیورسٹی نے ملک بھر کی جیلوں میں مقید افراد کو جیل کے حدو د کے اندر مفت تعلیمی سہولتیں فراہم کرنے کے لئے ایک مربوط پالیسی وضع کرکے اس پر باقاعدہ عمل درآمد شروع کر رکھا ہے

اب تک 1000سے زائد قیدی یونیورسٹی کے تعلیمی نیٹ سے منسلک ہوچکے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں