93

مسائل کا حل

تحریر: اسامہ حسن
زندگی کے مسائل سے نکلنے سے پہلے, سوچ کی درستگی نہایت ہی ضروری ہے کے مسائل پیدا کیوں ہوئے اور اس سے انفرادی، ذاتی، روحانی، اجتماعی اعتبار سے کیا مقصود ہے اللہ کا ان مسائل کو پیدا کرکے۔بعض مسائل پیدا ہوتے ہیں انسان کی تربیت کے لئیے اگر اس میں کسی بھی اچھی چیز کی کمی ہے تو اس صفت یا خوبی کو مضبوط کرنے کے لئیے اور بڑھانے کے لئیے، اگر منفی چیز کی زیادتی یا وجود ہے اس کی ذات میں تو اسے دفع کرنے کے لئیے، یا پھر ابھی کچھ نفسیات نے جنم لینا ہی ہوتا ہے تو اسے پہلے سے ہی رخ دے دیا جاتا ہے مسائل کھڑا کر کے تاکہ انسان اس نفسیاتی نقص سے بچ جائے اور مسائل کا حل نکالنے میں اپنی روحانی اور نفسیاتی تربیت کر لے۔
یہ تو تھی مسائل اور تکالیف کی وہ جہت جو انسان کے حق میں ہمیشہ مثبت ہی ثابت ہوں گی۔
بعص مسائل عذاب ہوتے ہیں جن کا تعلق حقوق سے ہوتا ہے خواں وہ اللہ کے حقوق ہوں، انسانوں کے یا کسی اور مخلوق کے اور اس کلیہ سے جڑے مسائل اس لئیے آتے ہیں تاکہ انسان توبہ کرے اللہ کے حضور یا پھر جس انسان کا حق مارا ہے اس سے معافی مانگنا ہی اللہ کو رازی کرے گا وگرنہ مسائل اپنی جگہ ہی رہیں گے۔ بعض مسائل نظریات کی غلطی کے نتیجے میں پیدا ہوتے ہیں اور اس سے نظریے کی درستگی مقصود ہوتی ہے ان مسائل کی شکل میں۔
بعض مسائل انسان کو مزید اپنی سرکشی میں برباد کرنے کے لئیے ہوتے ہیں تاکہ انسان ان مسائل میں مزید ڈوب کر اور غلطیاں کرے کیوں کے اب وہ اللہ کی رحمت کے سائے کا مستحق نہیں ہوتا مگر اس قسم کے مسائل کو جانچنا بھی عام انسان کے بس کی بات نہیں کے مسائل عذاب ہیں یا رب کی تربیت کا تحفہ۔ مسائل کا حل نکالنے میں مندجہ بالا اصولوں اور شکلوں کی تمیز نہ کرنا ہی اصل فساد ہے، اور جہالت کی وجہ سے انسان کسی اور سمت جا رہا ہوتا ہے مگر مطلوب اس سے کچھ اور ہوتا ہے۔ اس لئیے انسان کو سب سے پہلے غور و فکر کرنا چاہئیے کے اللہ کبھی بھی بنے بنائے معاملات ایسے ہی خراب نہیں کرتا، اور انسان کو اس کے نفس کے حوالے بھی نہیں کرتا کے وہ جو چاہے گڑھ لے اپنی ذات میں، صفات میں، جذبات میں، نظریات میں۔ مسائل نہیں آنا ایک جہت سے رحمت بھی ہو سکتی ہے اور ایک جہت سے اللہ کی طرف سے گمراہ اور بربادی کی طرف جانے کی چھوٹ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں