134

دی بیسٹ بنو

تحریر:عدنان علی
کامیاب کے راستے ” سے انتخاب دنیا کےنامور لیڈرز کی صف اول میں میرا جناح بھی شامل ہے .ہندو صحافی کے سوال آپ کی پسندیدہ شخصیت کون ہے؟ کے جواب میں لارڈ ماونٹ بیٹن نے کہا مسلمانوں کا جناح .کیونکہ وہ منافق نہیں ہے *.یہ تب کی بات ہے جب بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح ؒ قیام پاکستان کے بعدگورنر جنرل کی حیثیت سے ملک چلا رہے تھے* ،ایک دن برطانیہ کے سفیر نے کہا کہ برطانیہ کے بادشاہ کا بھائی آج پاکستان کے ائیرپورٹ پہنچ رہا ہے آپ انہیں لینے ائرپورٹ جایئے گا ،قائداعظم نے انتہائی دبدبے سے فرمایاآپکے بادشاہ کے بھائی کو ائرپورٹ لینے چلا جاؤں گا لیکن ایک شرط پر کے کل جب میرا بھائی برطانیہ جاے گا تو آپ کا بادشاہ جارج اسکو لینے ائرپورٹ جاے گا ، یہ سن کر سفیر اپنا منہ دیکھتا رہ گیا ۔ایک مرتبہ قائداعظم کے ملازم نے وزیٹنگ کارڈ آپکے سامنے رکھا کے صاحب یہ شخص آپ سے ملنا چاہتا ہے ، اس کارڈ پر انکے بھائی کا نام لکھا تھا اور ساتھ میں تعارف میں لکھا تھا برادر آف محمد علی جناح ، یہ پڑھتے ہی قائداعظم نے کارڈ پھاڑ کر ناراضگی کا اظہار کیا اور کہلا بھیجاکہ ’’اس کو کہہ دوکہ اس طرح کبھی میرے نام کا حوالہ استعمال نہ کرے *.ایک منٹ ایک اور واقعہ پڑھ لیں ۔* قائداعظم کے دفتر کا فرنیچر آرڈر کیا گیا جو کے سینتیس روپے تھا ، آپ کو خزانے سے ادائیگی کے لیے دستخط کرنے کے لیے پیش کیا گیا آپ نے بل دیکھا تو پوچھا اس میں یہ سات روپے کی فالتو کرسی کیوں آرڈر کی ہے سیکٹری نے کہا صاحب یہ فاطمہ جناح صاحبہ کے لیے ہے جب وہ دفتر آتی ہیں تو انکے بیٹھنے کے لیے منگوائی ہے ، قائداعظم نے سات روپے کاٹ کر تیس روپے کا بل منظور کرتے ہوئے فرمایا کرسی کے سات روپے فاطمہ سے جا کر وصول کرو ، قومی خزانہ نہیں دے گا *کچھ سمجھ آئی .ہم کیوں پوری دنیا میں ڈی ویلیو ہو رہے ہیں کیونکہ ہم نے ہمارے حکمرانوں نے اپنی قیمت خود گرائی ہے.* پہلے واقعہ میں دیکھیں سبق کیا ہے مومن کسی غیر کے آگے نہیں جھکتا شان استغنا اسے کہتے ہیں .اپنی قدر کروانا اسے کہتے ہیں. دوسرے واقعہ میں بھائی کو سبق دیا کہ اپنا نام خود پیدا کرو . *سہارے مت تلاش کرو چاہے بھائی ہی کیون نا ہو* .تیسرے واقعہ میں ذمہ دار افسر .اپنے منصب اپنی پوسٹ عہدے کی پاسداری کا سبق ملتا ہے اور یہ سبق فقط کسی حکمران کے لیے نہیں بلکہ ہم سب کے لیے ہے .*آج ہم.میں سے ہر آدمی فارن برینڈ اور غیر ملکی لباس کو عزت دیتا ہے صاحب کہہ کر سلیوٹ کرتا ہے ظاہری لباس سے متاثر ہو رہا ہے .ہم سب غلام ہیں ریا کاری کے .* اور یاد رکھنا ریاکاری انسان کا ظاہر سنوارتی ہے حقیقت میں اس کی تعمیر کا عمل رک جاتا ہے.ہمارے *اسلام ہمیں کہتا ہے دی بیسٹ بنو .آج ہمارے بہت سے نوجوان انگریز گورے یورپ سے متاثر نظر آتے ہیں کیا جی* بھائی گورا اصول کا بڑا پکا ہے گورا سچ بولتا ہے گورا دھوکہ نہیں کرتا یورپ ایماندار ہے .ارے بھائی کیوں خواہ مخواہ متاثر ہو رہے ہو . *متاثر وہ ہوتا ہے جس کے اپنے پاس کچھ نہیں ہوتا .اور جس کے پاس ہوتا ہے وہ متاثر نہیں ہوتا البتہ خوبیوں کو تسلیم کرتا ہے.* اب ذرا اسلام کی طرف آو یہ نعرہ جو تم لگاتے ہو مذہب کو گھر میں رکھو. یہ ہی غلط ہے کیا اسلام نے 1400سال پہلے دی بیسٹ بننے کے اصول نہیں بتائے تھے .بتائے تھے .1 *جھوٹ نہیں بولو* .2 *وعدے کی پاسداری کرو* . کہا جس عہد کی پابندی نہیں کرتا وہ ہم میں سے نہیں. 3 *گالی نہیں دینا.مومن گالی نہیں دیتا.* 4 *دھوکہ نہیں دینا .مومن دھوکہ نہیں دیتا* .5 *بھلائی کے کام میں ایک دوسرے سے تعاون کرو.* مومن خیر کے کام میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتا ہے. ..ایسی بہت سی احادیث میں جب جب اصول بتائے ہیں ساتھ مومن کا لفظ استعمال ہوا ہے ارے مومن ہی تو ہے دی بیسٹ پرسن .ہمارے اسلاف کیوں کامیاب تھے کیونکہ وہ دی بیسٹ تھے .قائد اعظم کی زندگی سے مثالیں اس لیے لایا کہ لوگ انہیں دنیا کی نظر سے دیکھتے ہیں .قائد اعظم مومن تھے .اسی لیے دی بیسٹ تھے دنیا میں خوب کامیاب ایک بڑا نام اور اللہ کی بارگاہ میں اس سے زیادہ کامیاب کیونکہ اللہ نے اسے ایسا وطن بنانے کا ہنر سلیقہ طریقہ انداز بتایا سکھایا جس وطن کی بنیاد خالص لا الہ الا اللہ پہ تھی .اگر آپ تجارت دکانداری میں کامیابی چاہتے ہو دی بیسٹ سیلر بننا چاہتے ہو تو لوگوں کو کھرا کھوٹا الگ الگ بتاو دھوکہ نادو *حضور نے گندم بیچ کر دی بیسٹ سیلر بن کر.دکھایا .* آپ مزدور ہیں تو دی بیسٹ ورکر بنو .حضور نے مسجد نبوی کی تعمیر میں کیسے کام کیا . *آپ پراپرٹی ڈیلر ہو تو دی بیسٹ سیلر بنو حضور نے مسجد نبوی کے پلاٹ کی خریداری کی* .آپ ڈاکٹر ہو تو دی بیسٹ ڈاکٹر بنوبہت عمدہ اخلاق رکھو مریض کو تسلی دو .صحابہ کہتے ہیں حضور کو دیکھ کر ہی بیماری ختم ہو جاتی. *آپ معلم ہو تو ایسے دی بیسٹ پڑھاو سکھاو کہ آپ کا.پڑھایا سکھایا دنیا کی امامت کرے صفہ کی پہلی درسگاہ کا سٹوڈنٹس کو دیکھ کو .* نبی پاک اسوہ حسنہ کا رول ماڈل تھے اور رول ماڈل دی بیسٹ ہوتا ہے اور دی بیسٹ بنانے کے لیے بھیجا جاتا تھا. اسلام جب جراثیم کا پتہ نہیں تھا تب بھی کہتا تھا ہاتھ دھو کے کھاو . *جب ٹوت برش نہیں تھا تب بھی مسواک کرواتا تھا* .بیوی کے ساتھ حسن سلوک کرو اپنے ہاتھ سے لقمہ کھلاو جس برتن سے میں پانی پیتی تھی حضور اسی برتن سے اسی جگہ ہونٹ مبارک.لگا کر پانی پیتے یہ لو میاں بیوی کی دی بیسٹ محبت کی مثال. یہ بات یاد کر لو آپ کا اسلام گھر کی چار دیواری کے اندر بھی اور چار دیواری سے باہر بھی دی بیسٹ بناتا ہے علامہ اقبال حکیم الامت ضیا ء الامت سب کو اسلام نے ہی دی بیسٹ بنایا سب انہی اصولوں پر چل کر دی بیسٹ بنے جن کو آج 1400سال پرانے کا ٹائٹل دیا جاتا ہے .اپنی قیمت خود بڑھاو .دی بیسٹ بنو دی بیسٹ اوکے میری تحریر پڑھنے والو . .خود بھی دی بیسٹ بنو اور دوسروں کو شئیر کرو تا کہ ہم سب دی بیسٹ بن کر آج کے یورپ اور گورے کے چنگل سے آزاد ہوں جس سے کچھ عقل کے اندھے واقف نہیں کہ دی بیسٹ لوگ کسی پر ظلم نہیں کرتے بچوں پر ڈراون اٹیک نہیں کرتے .کشمیر فلسطین برما عراق شام چیچنیا بوسنیا کے معاملات پر امن کے ٹھیکے دار جان بوجھ کر منہ بند نہیں کر لیتے اور ایک ملالہ کے لیے تڑپنے والے اتنی بیٹیاں برباد ہوتے کیسے دیکھ لیتے ہیں یہ یورپ سب سے بڑا دھوکہ ہے گورا اس وقت کا سب سے بڑا فتنہ اور دھوکہ ہے جس کی سچائی ایمانداری کی مثالیں دیتے ہو.اگر ایماندار ہوتے تو آج بہت سے فیصلے ہو چکے ہوتے دنیا میں امن ہوتا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں