397

پڑھے لکھے ان پڑھ !

تحریر: عدنان علی
پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی لاہور میں ہونے والے واقعے میں کون غلط ہے کون درست اس کی کیا تحقیقات ہوگی یہ تو بعد کی بات ہے لیکن
👈اگر آپ وکیل ہیں تو وکیل کا ہی دفاع آپ پر ضروری نہیں.
👈اگر آپ ڈاکٹر ہیں تو ڈاکٹر کا ہی دفاع آپ پر ضروری نہیں.
👈اگر آپ سیاستدان ہیں تو سیاستدان کا ہی دفاع آپ پر ضروری نہیں۔
👈اگر آپ صحافی ہیں تو صحافی کا ہی دفاع آپ پر ضروری نہیں۔
👈آپ کا تعلق کسی بھی طبقے سے ہو طبقے کا ہی دفاع آپ پر ضروری نہیں.
نہ ڈاکٹر گردی ھے یہ نہ وکلاء گردی ھے, یہ صورتحال پڑھے لکھے لوگوں میں عدم برداشت اور لا قانونیت کا ننگا ناچ ھے جو دنیا بھر میں ہماری اسلامی ریاست کی شہری شبیع کو تار تار کر چکی ھے.
ضرورت وکیلوں یا ڈاکٹروں کی نہیں, ضرورت وکیلوں یا ڈاکٹروں کا دفاع کرنے کی نہیں, ضرورت ڈگریوں کی نہیں *ضرورت تعلیم کی ھے* اس تعلیم کی جو ہمیں آپس میں بھائی بھائی ہونے کا درس دیتی ھے, ضرورت اس تعلیم کی ھے جو ہمیں یہ بتاتی ھے کہ جانوروں سے بھی صلہ رحمی کی جائے اور ضرورت اس تعلیم کی ھے جو ہمیں یہ بتاتی ھے
رسول اللہؐ نے فرمایا *صِل من قطعک* کہ کوئی تم سے تعلق توڑے تب بھی اس سے تعلق جوڑ کر رکھو۔ آپؐ نے یہ تعلیم دی کہ رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی کا معاملہ کرو، اس سے خاندان میں جوڑ پیدا ہوتا ہے آپس میں محبت بڑھتی ہے اور ضرورت کے وقت دوسروں کی مدد اور تعاون میسر ہوتا ہے۔ یہ اسلام کی تعلیمات ہیں اور جناب نبی کریمؐ کی سنت مبارکہ ہے
(رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:)
عن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما عن النبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم قال: المسلم من سلم المسلمون من لسانہ و یدہ۔ (مشکوۃ شریف کتاب الایمان)
ترجمہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا، “مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ کے شر سے مسلمان محفوظ رہیں۔” اور ضرورت اس تعلیم کی ھے جو ہمیں سکھاتی ھے کہ پہلوان وہ نہیں جو مخالف کو زیر کر لے بلکہ پہلوان وہ ھے جو غصے پر قابو پا لے…
یا اللہ ہمیں ان رویوں سے ان مصیبتوں سے نجات دلا…آمین ثم آمین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں