27

مونگ پھلی: مزہ بھی کمال اور فائدے بے مثال

مونگ پھلی: مزہ بھی کمال اور فائدے بے مثال

موسم سرما کے آتے ہی جگہ جگہ بھنی ہوئی مونگ پھلی ملنا شروع ہوجاتی ہے۔ بچے ہوں یا بڑے سب ہی اس کو شوق سے کھاتے ہیں۔ ایک بار شروع ہوجائیں تو ہاتھ رکتا ہی نہیں ہے کہ جب تک ختم نا ہوجائیں۔ اپنے منفرد ذائقے کی بدولت مشہور مونگ پھلی کو تلہ گنگ،چکوال اور پنڈی گھیپ کےکاشت کار کئی دہائیوں سے اولیت دیتے رہے ہیں۔ مونگ پھلی کو غریبوں کا بادام کہا جاتا ہے کیونکہ اس میں وٹامن ’ ای ‘ ، ’ ڈی‘ اور ’ بی‘ اور کیلشیم بھر پور مقدار میں پایاجاتا ہے۔

ﺳﺮﺩﯾﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﻣﺰﮦ ﺗﻮ ﺁﺗﺎ ﮨﯽ ﮨﮯ ﺗﺎﮨﻢ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺑﺎﻗﺎﺋﺪﮦ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﺩﺑﻠﮯ ﺍﻓﺮﺍﺩ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﮈﯼ ﺑﻠﮉﻧﮓ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺍﻧﺘﮩﺎﺋﯽ ﻏﺬﺍﺋﯿﺖ ﺑﺨﺶ ﺑﮭﯽ ﺛﺎﺑﺖ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﻣﻮﻧﮓ ﭘﮭﻠﯽ ﻣﯿﮟ ﻗﺪﺭﺗﯽ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺍﯾﺴﮯ ﺍﯾﻨﭩﯽ ﺍﻭﮐﺴﯿﮉﯾﻨﭩﺲ ﭘﺎﺋﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﻏﺬﺍﺋﯿﺖ ﮐﮯ ﺍﻋﺘﺒﺎﺭ ﺳﮯ ﺳﯿﺐ، ﮔﺎﺟﺮ ﺍﻭﺭ ﭼﻘﻨﺪﺭ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﮐﻢ ﻭﺯﻥ ﺍﻓﺮﺍﺩ ﺳﻤﯿﺖ ﺑﺎﮈﯼ ﺑﻠﮉﻧﮓ ﮐﺮﻧﮯﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﻧﮩﺎﯾﺖ ﻣﻔﯿﺪ ﺛﺎﺑﺖ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔

ﺻﺮﻑ ﯾﮩﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻠﮑﮧ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻃﺒﯽ ﻓﻮﺍﺋﺪ ﮐﺌﯽ ﺍﻣﺮﺍﺽ ﺳﮯ ﺣﻔﺎﻇﺖ ﮐﺎ ﺑﮭﯽ ﺑﮩﺘﺮﯾﻦ ﺫﺭﯾﻌﮧ ﮨﯿﮟ۔ ﻣﻮﻧﮓ ﭘﮭﻠﯽ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﯾﺎ ﺟﺎﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﻭﭨﺎﻣﻦ ﺍﯼ ﮐﯿﻨﺴﺮ ﮐﮯ ﺧﻼﻑ ﻟﮍﻧﮯ ﮐﯽ ﺑﮭﺮﭘﻮﺭ ﺻﻼﺣﯿﺖ ﺭﮐﮭﺘﺎ ﮨﮯ ﺟﺒﮑﮧ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﻗﺪﺭﺗﯽ ﻓﻮﻻﺩ ﺧﻮﻥ ﮐﮯ ﻧﺌﮯ ﺧﻠﯿﺎﺕ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﮨﻢ ﮐﺮﺩﺍﺭ ﺍﺩﺍ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ۔ تحقیق سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ مونگ پھلی ایسے اہم اور بڑے غذائی عناصر سے بھرپور ہوتی ہے جو انسانی جسم کے مدافعتی نظام کی قوت میں اضافہ کرتے ہیں۔ مونگ پھلی دل اور خون کی شریانوں کے امراض ، الزائمر اور سرطان سے بچاتی ہے اور بڑھاپے کے اثرات کو کم کرتی ہے۔

مونگ پھلی میں 25% پروٹین ہوتے ہیں جو انسانی جسم میں خلیوں کے مجموعوں کی تجدید کرتے ہیں۔ مونگ پھلی میں متعدد غذائی عناصر پائے جاتے ہیں جن میں فولک ایسڈ ، تانبہ ، نیاسن اور کئی وٹامن شامل ہیں۔ یہ دل اور شریانوں کا تحفظ کرتے ہیں ، نقصان دہ کولسٹرول کو کم کرتے ہیں اور جرثوموں اور زہریلے مواد سے بچاتے ہیں۔

غرض یہ کہ مونگ پھلی قدرت کا وہ عطیہ ہے جس میں بے شمار فوائد ہیں اور جس کے استعمال سے ہم تندرست اور توانا رہ سکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں