14

ٹائیفائیڈ پانی اور کھانے میں جراثیم سے ہوتا ہے،ڈاکٹر غلام مصطفی چوہدری انڈے اور مرغی کے سڑنے سے جراثیم انسان میں منتقل ہوجاتے ہیں آلودہ غذاؤں،مشروبات سے صحت مند آدمی بھی بیمار ہوسکتا ہے،’’جیو ایکسپریس نیوز ‘‘سے گفتگو

سندیلیانوالی(محمد ظفر زریں )ٹائیفائیڈ آنتوں کا بخار ایک ایسا انفیکشن ہے جو پورے سال ہی تقریباً ہر عمر کے لوگوں کو متاثر کرتا ہے ۔یہ ایک جراثیم سالمونیلہ کی وجہ سے ہوتا ہے جوکہ عام طور پر سڑے ہوئے کھانے یا خراب پانی میں پایا جاتا ہے۔بالخصوص انڈے اور مرغی کے خراب ہونے یا سڑنے کی وجہ سے یہ جراثیم انسان میں منتقل ہوجاتا ہے۔ان خیالات کا اظہار سپیشلسٹ فیملی میڈیسن فزیشن اینڈ سرجن ڈاکٹر غلام مصطفی چوہدری نے’’نمائندہ جیو ایکسپریس نیوز ‘‘سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے مزید کہا کہ اسپتال میں جو مریض بخار،قے،پیٹ میں درد کے ساتھ آتے ہیں ان کے ٹائیفائیڈ کے ٹیسٹ کیے جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ٹائیفائیڈ بخار سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ صفائی کا خیال رکھا جائے۔آلودہ غذائیں یا مشروبات کوئی بھی صحت مند آدمی استعمال کرے تو وہ بھی ٹائیفائیڈ میں مبتلا ہوسکتا ہے۔بیماری سے بچاؤ کے لیے ایسی غذائیں یا مشروبات استعمال کی جائیں جن کے جراثیم سے آلودہ نہ ہونے کا امکان ہو۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں