27

بھوآنہ(مبشر حسین )محمدی پریس کلب بھوآنہ کے لیگل ایڈوائزر شہباز حسینی ایڈوکیٹ(لاہور ہائیکورٹ)نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہاپورے پینل کی مشاورت سے کسی فرعون کےتحفظ کیلئے من گھڑت ڈرامہ رچایا ان درباریوں نے نام نہاد صحافت کا جھوٹا لبادہ اوڑھ کر فرعون وقت کے دربار میں حاضری دیکر یقین دہانی کرائی

بھوآنہ ،(مبشر حسین لونا) محمدی پریس کلب بھوآنہ کے لیگل ایڈوائزر شہباز حسینی ایڈوکیٹ(لاہور ہائیکورٹ)نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا<!–moreراو طاھر سیالوی صاحب کی عظمت کو سلام پیش کرتے ہیں
سنا ھے آج انہوں نے بندہ حقیر کے متعلق فصیح و بلیغ اور کمال محنت سے اور کسی کا کار خاص ھونیکے لئے اور کسی آقا کی خوشنودی کیلئے اور اس خوشنودی کو اپنے لئے fruit full بنانے کی غرض سے کافی لمبی چوڑی تحریر لکھی ہے جسکا کسی عزیز نے بتایاہے
پہلے تو میںرا دل یہ بات ماننے کو تیار نہیں تھا کہ راو طاھر سیالوی صاحب جیسے فاضل آدمی اتنی لمبی چوڑی خودساختہ کہانی گھڑ ہی نہیں سکتے چلو شاید کسی پورے پینل کی مشاورت سے کسی فرعون کے تحفظ کیلئے منگھڑت ڈرامہ رچایا گیا جسکا میرے اوپر کوئی اثر نہیں میں ان باتوں سے اپنے مشن میں کبھی بھی لڑکھڑاتا نہیں اللہ تعالی نے مجھے حق پر ڈٹ جانے حب ھمت عطاء کی ھوئی ھے
دوسری بات کہ جواب کیوں لکھ رھا ھوں کہ ان لوگوں کو بتا دو کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کی وجہ سے راھگیر راستہ نہیں بدل لیتے
اور ھم انشاءاللہ مشن حق چند ایک پروفیشنل درباریوں کی لغویات کی وجہ سے پیچھے ھٹنے والے نہیں
اور راو طاھر سیالوی صاحب کو بتانا چاہتا ہوں کہ میں کچھ حضرات کی طرح ۔ضمیر فروش ۔بلیک میلر اور پیشہ ور درباری نہیں ھوں یہ بات سب احباب باخوبی جانتے ہیں
ایک انسان کو لاوارث سمجھتے ھوئے بے رحمی سے جلا کر مارا گیا ۔میں نے آواز اٹھائی ۔چاھئے کون کتنے میں بکا اللہ جانتا ھے
دوسری بات ایک بہادر اور دلیر بیباک صحافی کو پولیس نے یرغمال بنانے کی کوشش کی اور چند پیشہ ور درباریوں نے نام نہاد صحافت کا جھوٹا لبادہ پہنتے ھوئے بھی اس صحافی کا ساتھ دینے کی بجائے فرعون وقت کے دربار میں حاضری دیکر تحفظ کرنے کے لئے یقینی دھانیاں کروائیں ایک بہت بڑا مجاھد نما عالم فاضل عمامہ بردار شریف آدمی بھوآنہ شہر بھر میں بیباک صحافی بابر اشرف کیخلاف جھوٹا مدعی کھڑا کرنیکے چکر میں مارا مارا پھرتا رھا اور ذات برحق نے اسے ناکامی سے شرمشار کیا
اور بندہ ناچیز حقیر فقیر گنہگار انسان نے کھلا چیلنج دیا کہ ھم حقیقی صحافت کا تحفظ کریں گے اور الحمداللہ ھم نے اللہ تعالی کی رحمت سے تحفظ کیا اور آئندہ بھی سچ اور حق پرستوں کا ساتھ دونگا
تو راو صاحب ھر ایک کو اپنے آئینے میں مت دیکھا کریں
اور مجھے تمھارے سامنے صفائیاں دینے کی ضرورت نہیں اور نہ تمھاری لغویات سے ناچیز کو کوئی فرق پڑتا ھے
میں کیا ھوں کتنا دکاندار ھوں کتنا بکاو ھوں کتنا ضمیر فروش ھوں کتنا پیشہ ور درباری ھوں سب جانتے ہیں مجھے کسی کے سرٹیفیکیٹ کی ضرورت نہیں
کیونکہ سچ کی اپنی زبان ھوتی ھے جو دراصل کٹا وچھا نیوز کے کسی نام نہاد صافی کی سمجھ سے بالاتر بات ھے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں