23

(چوہدری محمد عرفان)مظلوم عوام کی بے بسی اور سرکاری ہسپتال کے عملے کی عیاشیاں

(چوہدری محمد عرفان)مظلوم عوام کی بے بسی اور سرکاری ہسپتال کے عملے کی عیاشیاں

زراٸع کے مطابق گورنمنٹ آف پاکستان نے عوام کو مفت طبی سہولت دینے کے لئے پورے ملک میں گورنمنٹ ہسپتالوں کا جال بچھا رکھا ہے اور ان ہسپتالوں کا کام مفت طبی سہولیات فراہم کرنہ ہے ویسے تو ملک بھر کے سرکاری ہسپتالوں کی حالت بد حالی بد انتظامی اور کرپشن کی منہ بولتی تصویر ہے مگر ان میں سندھ کے ہسپتال سرفہرست ہیں*

*👈جہاں عوام اپنے علاج معالجے کیلئے آتے ہیں مگر ہر جگہ کرپشن کا بازار گرم ہونے کی وجہ سے مفت سہولت سے محروم ہو جاتے ہیں*

*👈اب چاہے وہ کسی قسم کے ٹیسٹ ہوں یا ادویات کی فراہمی ہر چیز کیلئے پیسے طلب کئے جاتے ہیں مزید براہ اگر آپریشن کی نوبت آ جائے تو 6/6 مہینے کا ٹائم دے دیا جاتا ہے چاہے مریض آخری اسٹیج پر ہی کیوں نہ ہوں_*

*👈اسی طرح ہر ہسپتال میں فزیوں تھراپی کی بھی سہولیات ہوتی ہے جہاں 50 روپے فی مریض پیسے لئے جاتے ہیں ریجسٹر میں مریضوں کی تعداد تو 10/5 لکھی جاتی ہے اور مریض 70/50 دیکھے جاتے ہیں یعنی کرپشن اپنے عروج پر اور پیسہ عملے کی جیب میں_*

*👈سرکاری ہسپتالوں میں بیڈ بھی خریدنا پڑتا ہے یعنی اگر مریض زیادہ ہو تو علاج اسی کا ہوگا جو کہ بیڈ کی پے منٹ رشوت کے طور پر دیگا_*

*👈صفائی کا فقدان واضح دیکھنے کو ملتا ہے جگہ جگہ گندگی کے ڈھیر اور پان کی پیکے اچھے خاصے صحت مند آدمی کو بھی بیمار کر دیتی ہے مریض کو چیک اپ یا علاج کے لئے ساتھ آنے والے لواحقین بھی بیماریوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں*

*👈ہماری گورنر سندھ وزیراعلیٰ سندھ وزیر صحت اور چئیرمین اینٹی کرپشن سے درخواست ہے کہ خدارا ہسپتالوں کے اس بوسیدہ اور غلیظ نظام کو تبدیل کیا جائے_*

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں