51

جہیز کا مرض

تحریر: محمد طلحہ جٹ
چند روز قبل ایک شادی پر جانے کا اتفاق ہوا، پہلے دو دن تو ٹھیک سے گزر گئے لیکن تیسرے روز میں نے دلہن کے بھائی کو چھت پر چہل قدمی کرتے ہوئے دیکھا، جو کافی پریشان لگ رہا تھا۔
اسکو پریشان دیکھ کر میں اسکے پاس گیا اور پریشانی کی وجہ پوچھی، پہلے تو اس نے مجھے کچھ بتانے سے صاف انکار کردیا۔ لیکن میرے شدید اصرار کے بعد اسنے مجھے بتایا کہ جسکی شادی ہو رہے ہے وہ اسکی اکلوتی بہن ہے اور والد کے انتقال کے بعد انہوں نے اسے بہت لاڈ پیار سے پالا پوسہ ہے۔

اکلوتی بہن کی شادی میں کوئی کمی نہ رہ جائے اسلیے بہت مشکل سے روپیوں کا بندوبست کیا لڑکے والوں کی ہر ڈیمانڈ پوری کی۔ لیکن اب اچانک دولہے نے ایک عدد موٹر سائیکل کا مطالبہ کر دیا ہے جبکہ اسکے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں۔

خیر جیسے تیسے کرکے ہم نے موٹر سائیکل کا بندوست کیا اور وہ تقریب ہنسی خوشی مکمل ہوئی۔

گھر آکر میں نے اس پر تحقیق کی تو مجھے معلوم ہوا کہ
شادی کے بعد جو سامان لڑکی والے لڑکے کو دیتے ہیں اسے جہیز کہتے ہیں مزید یہ بھی معلوم ہوا کہ یہ ہندوؤں کی، خالصتاً ہندوؤں کی رسم ہے بلکہ مزہبی عقیدہ ہے ۔

ہندو مذہب میں عورت کو وراثت میں حصہ نہیں دیا جاتا اس وجہ سے وہ جہیز دے کر اسکی کمی کو پورا کرنے کی کوشش کرتے ہیں، ہندو تو یہ کام اپنے مذہبی عقیدے کی وجہ سے کرتے ہیں لیکن بدقسمتی سے مسلمان بھی اس ناسور کا اتنا ہی شکار ہیں ، جتنا ہندو، جبکہ اسلام میں اس چیز کا تصور بھی نہیں ۔

ہمارے معاشرے میں لڑکی کے پیدا ہونے سے لے کر قبر کی مٹی تک جن مراحل سے لڑکی اور اسکے والدین کو گزرنا پڑتا ہے ، ہم سب بخوبی واقف ہیں​۔ جس عمر میں لڑکی ٹھیک سے چل نہیں سکتی،بول نہیں سکتی،اس عمر سے اسکے لیے “جہیز” کا بندوبست کرنا شروع کیا جاتا ہے اور پھر یہ سلسلہ ساری عمر پورے آب و تاب کے ساتھ جاری رہتا ہے۔

اتنا سب کچھ کرنے کے باوجود جہیز کے بھکاری طرح طرح کے رسم و رواج کا سہارا لے کر کچھ نہ کچھ مانگتے رہتےہیں، اور اگر اگر کسی وجہ سے انکا مطلوبہ مطالبہ پورا نہ ہو تو نوبت طلاق تک آجاتی ہے۔ لڑکی کی پیدائش جو بلاشبہ اسلام اور سرکار دو جہاں کی تعلیمات کی روشنی میں خوش بختی کی علامت ہے ، کو ہم نے اپنے ہاتھوں سے بد بختی میں بدل دیا ہے۔

جہیز کا یہ مرض لاعلاج بیماری کی طرح پھیل رہا ہے اور اس نے ہمارے معاشرے میں اپنی جڑیں بہت گہری کر لی ہیں۔ اس ناسور سے جان چھڑانے کا صرف ایک ہی طریقہ ہے،اور وہ یہ ہے کہ آپ اپنے آپ سے شروعات کریں۔ اگر آپ مرد ہیں یا کسی لڑکے کے باپ تو فوری طور پر عہد کرلیں کہ کسی صورت بھی جہیز نہیں لیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں