124

ٹرمپ کا یو ٹرن

تحریر: عدنان آفریدی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے طالبان اور امریکہ کے درمیان دوحہ قطر میں ہونے والے مذاکرات معطل کردیئے ہیں ۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنی ٹویٹ میں کہا کہ طالبان ایک طرف مذاکرات کرتے ہیں تو دوسری طرف عام بے گنا شہریوں کو نشانہ بناتے ہیں ۔طالبان اور امریکہ کے درمیان دوحہ میں نویں مذاکرات جاری تھی ۔دونوں کے مابین معاہدوں پر دستخط ہونے والے تھیں ۔کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے تمام مذاکرات معطل کردیئے ۔یاد رہے کہ گذشتہ روز کابل کے شہر میں دھماکہ ہوا تھا ۔جس میں ایک امریکی سمیت بارہ افراد ہلاک ہوگئے تھے ۔مبصرین کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس حملے کی صورت میں مذاکرات منسوخ کردیئے ۔امریکی صدر کے ٹویٹ کے بعد اسلامی امارات کے امیر ذبیخ اللہ مجاہد نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے مذاکرات ختم کر کے بہت بڑی غلطی کی ۔ہمارے دروزے مذاکرات کے لیے ہروقت کھولے رہیں گے ۔ امریکہ اور طالبان کے درمیان بہت سی نکاتی ایجنڈے پر اتفاق ہو ا تھا ۔دونوں وفد کے مابین دستخط ہونے والے تھیں ۔کہ ٹرمپ نے تمام مذاکرات ختم کردیئے ۔امریکہ نے طالبان کے سامنے کچھ سفارشات پیش کیے تھے ۔جس میں افعانستان کی سرزمین امریکہ یادوسری ممالک کے خلاف استعمال نہیں ہوگا،خواتین کی حقوق کی خفاظت اور روزگار کے مواقع فراہم کرنا،اور افعانستان میں امریکی انخلاء کے بعد امن کو برقرار رکھنا نکاتی ایجنڈے کا حصہ تھا۔ امریکہ کے نمائندہ زلمے خلیل ذاد نے کہا کہ دونوں کو مل بیٹھ کر اس مسئلے کا حل نکالنا چاہیئے ۔ وزیراعظم عمران اگست میں دورہ امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ملاقات ہوئی ۔وزیراعظم عمران خان نےامریکہ کو افعانستان سے انخلاء میں بھر پور مدد کرنے کی پیشکش کی تھی۔اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان نےامریکہ اور طالبان کو ایک میز پر لایا تھا۔امریکہ پاکستان کے بغیر طالبان کے ساتھ مذاکرات نہیں کر سکتے تھے ۔پاکستان نے دونوں کے درمیان ثالثی کردار ادا کیا ہے ۔امریکی صدر کے اس فیصلے سے پینٹاگون، کانگریس والے کافی حیران ہے ۔امریکہ نے خود اپنی پاوں پر کلہاڑی ماری ہے ۔ افعانستان میں سترہ سال سے جاری جنگ میں پاکستان کو بہت نقصان پہنچاہے ۔افعانستان کی سرزمین ہمشیہ سے پاکستان کے خلاف استعمال ہوتا رہا ہے۔ امریکہ نے افعانستان میں اربوں ڈالر خرچ کرکے کچھ حاصل نہ ہوا۔دوسری طرف امریکہ نے افعانستان کی فوج،پولیس اور دیگر اداروں پر اربوں ڈالر خرچ کر ڈالے،اور نتیجہ صفر کے برابرہے۔افعانستان میں امریکہ کے آنے سے پہلے اٹھ ہزار ایکڑ رقبے پر افیون کاشت کی جاتی تھی ۔اس کو ختم کرنے پر اربوں ڈالر خرچ کرنے کے باوجود دو لاکھ ایکڑ پر پھیل چکاہے دوسری طرف افعانستان میں صدارتی انتخابات ہونے جارہے ہیں ۔صدر اشرف غنی کی مدت جون میں ختم ہوگی تھی۔بعد میں سپریم کورٹ نے ستمبر تک صدر رہنے کا حکم دے دیا ۔صدراشرف غنی نے بھی امریکی صدر کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان کے اعوام مذاکرات کے حامی تھے ۔افعانی اپنے ملک کو پرامن اور خوشحال دیکھنا چاہتے ہیں ۔امریکی صدر کے اس فیصلے کے بعد چند دنوں بعد سب کچھ واضح ہو جائے گا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں