216

آزادی خون مانگتی ہے

تحریر: عدنان علی (چھپی بات)
جو پانی سے نہاتے ھیں وہ صرف کپڑے بدلتے ھیں۔جو پسینے سے نہاتے ھیں وہ تقدیر بدلتےھیں۔اور جو خون سے نہاتے ھیں وہ تاریخ بدلتے ھیں
مسلم تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ھے اگر کوئی یہ سمجھ رہا ہے کہ آزادی بات چیت اور مذاکرات سے مل جائے گی تو یقیناً وہ بہت بڑا بے وقوف انسان ہے۔
دنیا کی تاریخ اُٹھا کر دیکھ لیں، ایک بھی آزادی ایسی نہیں جہاں مذاکرات کی بنیا د پر آزادی ملی ہو
خیر دنیا کی تاریخ چھوڑ دیں، اسلام کی تاریخ پڑھیں ویسے تو اسلام اول دن سے ہے پر میں اس دورِ اسلام کی بات کر رہا ہوں جو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آنے کے بعد سے شروع ہوا۔
کیا حضورۖ سے زیادہ کوئی امن پسند ہو سکتا، ناممکن، جب سرکار دوعالم نے آزادی کیلے جنگیں لڑی تو پھر تم لوگ کس کھیت کی مولی ہو جو مذاکرات سے آزادی حاصل کرنے نکل پڑے ہو؟
دوسری مثال ہمارے اپنے ملک کی ہے، انگریزوں سے آزادی ایسے نہیں ملی کہ آو مل بیٹھ کر بات کریں اور آزاد ہوجائے بلکہ خون دینا پڑا ،لاکھوں کی تعداد میں لوگوں نے شہادتیں دی تب جا کر آزادی ملی اور ہندووں سے بھی خون دے کر ہی آزادی ملی۔
پتہ نہیں یہ لیڈران اتنے مثالیں ہونے کے باوجود بھی اُس چیز کی بات کیوں کرتے، جس کے ہونے پر آج تک بھی آزادی نہیں ملی، میں مذاکرات کی بات کر رہا ہوں۔
کشمیر اُس وقت تک آزاد نہیں ہو سکتا جب تک ہر کشمیری جان دینے کیلئے تیار نہ ہو، ہر گھر سے ہر مرد جب جان دینے کیلے تیار ہوگا تو چند دنوں میں آزادی مل جائے گی، ایسے آزادی نہیں ملتی کہ فیسبک ٹیوٹر اور دیگر سوشل میڈیا پر پوسٹ کر کہ سوچنے لگو کہ آزادی ملے گی
جب ہر کشمیری کے اندر مرنے کا خوف نہیں ہوگا اور اپنے بچوں کو آزادی دینے کا جذبہ جب ہوگا تو چند دنوں میں آزادی آجاے گی
آپ سوچ رہے ہونگے کہ میں شاید پاگل ہوگیا ہوں پر حقیقت یہی ہے میں بتاتا ہوں کسے ۔دیکھو اگر ہر کشمیری جہاد کیلئے گھر سے نکلے گا جان کی پروا کیئے بغیر تو انہیں آرمی سے سو گنا زیادہ ہونگے جب زیادہ ہونگے تو ان سے لڑ بھی سکھیں گے۔جب ان سے لڑنے پر اتر جائے گے تو وہ مجبور ہو کر یا تو کشمیر چھوڑ کر چلے جائے گے یا پھر وہ بھی لڑیں گے۔جب وہ لڑیں گے تو لازمی بات ہے ان کے پاس ہتھیار ہونگے وہ کشمیریوں کو ماریں گے، اور جب کشمیری ہزاروں کی تعداد میں مر جائے گے تو اس کے بعد انڈیا چاہ کر بھی وہاں ایک دن نہیں ٹہر پائے گا ،کیونکہ جب بےتحاشہ خون بہیے گا تب ہی جا کر پوری دنیا اس پر متوجہ ہوگی اور حل نکالنے کیلئے سب ساتھ بیٹھیں گے ۔ایک دو دو مرنے سے کبھی بھی پوری دنیا متوجہ نہیں ہوگی۔اگر زیادہ مرے تو پھر امریکہ نہ چاہتے ہوے بھی مجبور ہوگا کیونکہ پوری دنیا کے سامنے اس کا بس نہیں چلے گا۔
آزادی لینی ہے تو خون دینا پڑے گا، کشمیریوں کو دوسروں کی طرف دیکھنے کے بجائے خود اترنا ہوگا، تب میں دیکھوگا کہ آزادی کسے نہیں ملتی۔
اب آتے ہیں پاکستان پر، پاکستان حکمران بھی آزادی کی جنگ نہیں لڑیں گے یاد رکھنا، اس کی وجہ ہے امریکہ۔ہم ڈرتےہیں کہ اگر ہم لڑے تو کہیں امریکہ ہم پر بم نہ گرا دے۔
میں پوچھنا چاہتا ہوں اس ملک میں ہم رہ رہے آپ تو باہر بھی جا سکتے پھر ڈر کس چیز کا، ایوب خان کی طرح عوام کو کہا جائے کہ جو بھی جہاد کیلے کشمیر جانا چاہتا تیار رہے۔اگر امریکہ بم گرا کہ سب کو مارے گا تب بھی شہادت نصیب ہوگی اور اگر نہ مار سکھا تو کشمیر کی آزادی ہوگی۔ویسے امریکہ کچھ بھی نہیں کرسکے گا کیونکہ اسے پتہ دنیا میں سب سے زیادہ نفرت امریکہ سے ہی کیا جاتا ہے اور بم کی صورت میں امریکہ بھی تباہ ہوجائے گا پر بس ہمارے حکمرانوں کے دلوں میں ڈر بیٹھا ہوا ہے کہ پتہ نہیں اگر ہم لڑیں گے تو کیا ہوگا
جاگ کشمیر جاگ اگر آزادی چاہیے تو افغان طالبان بننا پڑے گا آپکو۔
جب مسلمان کے اندر اللہ کا خوف پیدا ہوگا اور دنیا کا ڈر نکل جائے گا یاد رکھنا اسی دن دوبارہ پوری دنیا اسلام کے اصولوں پر چلنے والی بن جائے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں