320

ایک کامیاب اور مضبوط عورت

تحریر: رباب بتول
جب لوگ ایک مضبوط عورت کو معاشرے میں دیکھتے ہیں تو گمان کرنے لگتے ہیں کہ اس کو نہ کسی کے سہارے کی اور نہ ہی کسی بھی چیز کی ضرورت ہے معاشرہ گمان کرنے لگتا ہے کہ ایک مضبوط عورت کسی بھی مسلے کو اور تکلیف کو خوشی کے ساتھ جھیل بھی لے گی اور مستقبل قریب میں اس مشکل اور مصیبت کے صدمے کو بھی باآسانی بھلا دے گی یعنی ایک مضبوط عورت کو کوئی فرق محسوس نہیں ہوتا کہ کوئی اسے سنتا ہے اس کا احساس کرتا ہے یا اسے خاص انداز میں تحفظ فراہم کرتا ہے یا نہیں ایک مضبوط عورت کو معاشرے میں اپنی بقا کی جنگ ایک بہترین انداز میں لڑتا دیکھ کر معاشرہ اس بات کا فیصلہ خودی کر لیتا ہے کہ ایک باہمت با صلاحیت اور مضبوط عورت اپنے اقربا اور معاشرے کے مسائل سننے اور حل کرنے کے لٗے ہر وقت موجود ہے مگر اسے کسی کے ساتھ کی یا سہارے کی قطع ضرورت نہیں ہے ایک مضبوط عورت کو یہ معاشرہ ایک ایسے بے حس انسان کی صورت میں دیکھتا ہے جسے نہ کبھی کسی چیز کا خوف ہے نہ کبھی کسی پریشانی کا سامنہ ہے اور نہ ہی اسے کبھی اکیلے پن کا احساس محسوس ہوتا ہے
ایک مضبوط عورت معاشرے کا وہ فرد ہے جسے لوگ انسانی احساسات سے معاورہ ایک خلاٗی مخلوق کی حیثیت سے دیکھتے ہیں باہمت عورت کو کبھی بھی انسان ہونے کا مارجن فراہم نہیں کیا جاتا اگر ایک باہمت مضبوط عورت اپنے احساسات پر قابونہ با سکے تو اس کی سالوں کی جدوجہد کو بھلا کر اسے کمزور ہونے کا تعانا دیا جاتا ہے غصے کے اظہار پر اسی عورت کو طنز و تعانے کے نشتر بھی جھیلنے پڑتے ہیں کیونکہ معاشرے کی نظر میں ایک مضبوط عورت کو اپنے احساسات کے اظہار کی کوٗی گنجائش نہیں دی جاتی ایسی خواتین کی غیر موجودگی پر فورا سوالات کی بھرمار کھڑی ہو جاتی ہے مگر ان کی موجودگی کسی کے لئے کوئی معنی نہیں رکھتی معاشرے کا کوئی فرد عورت کی مضبوطی کے پچھے کی جانے والی جدو جہد کو کبھی بھی محسوس نہیں کر سکتا کہ کن منازل کو طے کرنے کے بعد ایک عورت اس قدر مضبوط اور حوصلہ مند کردار کی مالک بن جاتی ہے
ایسی عورت کو معاشرہ کبھی بھی قبول نہیں کر پاتا جو معاشرے میں رہتے ہوئے نہ صرف اپنی بقا کی جنگ لڑتی ہے بلکہ معاشرے میں ازل سے چلنے والے بے بنیاد رسومات کی نفی بھی کرتی ہے
موجودہ وقت کی اولین ضرورت ہے کہ اپنے ارد گرد موجود ایسی باہمت اور ناڈر خواتین کو سراہا جائے تاکہ ہمارا معاشرہ ایک اچھی نسل کو پروان چڑھانے میں اپنا کردار ادا کر سکے بہترین باہمت ناڈر خواتین ہی ایک بہترین معاشرے کو تعبیر فراہم کر سکتی ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں