234

*پاکستانی کاریں موت کی ڈبیاں*

ہمارے ملک میں سب سے فالتو چیز انسان ہیں اگر کچھ ہلاک بھی ہوجائیں تو کوئی بات نہیں۔ آبادی بہت ہے اورآ جائیں گے۔ سابقہ حکمرانوں کی غلط پالیسی یا ٹویوٹا کرولہ کمپنی کی سازش اس مہنگی ترین گاڑیوں کے ایکسیڈنٹ کے وقٹ سیفٹی ائیر بیگز کیوں نہیں کھلتے یا لگائے ہی نہیں جاتے بیرون ملک ہر گاڑی کے سیفٹی ائیر بیگ کھلتے ہیں جس سے ڈرائیور کی جان بچ سکتی ہے۔بیرون ممالک میں ‏گاڑی کے ایکسیڈنٹ کی صورت میں 8 سے 16 ائیر بیگز کھل کر فوراً مسافروں کی جان بچا لیتے ہیں۔ مگر پاکستان میں کائرہ صاحب کا بیٹا اور روزانہ سڑکوں پر مرنے والےحادثے میں اصل میں نہیں مرتے بلکہ اُنہیں قتل کیاجاتاہے اور قاتل ہیں مہنگی لیکن گھٹیا کاریں بنانے والی کمپنیاں (TOYOTA. HONDA ۔SUZUKI) ہیں اور وہ حکومتی ارکان و عہدیدار بھی ہیں جو ان کمپنیوں کو سیفٹی کے بغیر مہنگی گاڑیاں بیچنے کی اجازت دیتے ہیں ۔ اور کوالٹی دینے پر آنکھیں بند کر لیتے ہیں۔ پاکستانیوں کا خون سستا کیوں جس پر توجہ نہ دی گئی۔ دوسری وجہ ٹریفک قوانین کا نہ ہونا اگرہیں بھی تو ان پر عمل درآمد نہ ہونے کے برابر ہے دنیا کے تمام مہذب ممالک میں ٹریفک قوانین پر ہر صورت عمل کروایا جاتا ہے تاکہ حادثات کم سے کم ہوں۔ سخت ترین سزائیں دی جاتی ہیں تاکہ قیمتی جانوں کو ضائع ہونے سے بچایا جا سکے۔ گاڑی کے ائیر بیگ تب کھلتے ھیں جب ڈرائیور نے سیٹ بیلٹ لگایا ھوا ھو۔۔اگر سیٹ بیلٹ نا لگاو تو دنیا کی کسی بھی گاڑی کے ائیر بیگ نہیں کھلتے۔۔جاپان یا دوسرے ملکوں میں ائیر بیگ اسی لئے کھلتے ھیں۔۔کیونکہ وھاں قانون پر عملدرآمد ھوتا ھے۔وہ لوگ سیٹ بیلٹ باندھ کے گاڑی چلاتے ھیں۔پاکستان میں ٪70 لوگ بغیر سیٹ بیلٹ کے گاڑی چلاتے ہیں۔ میری دردمندانہ اپیل ہے گورنمنٹ سے کہ خدارا ان حادثات سے بچنے کیلئے۔ان کمپنیوں کو سیفٹی کے بغیر گاڑیاں بیچنے کی اجازت نہ دی جائے جن میں ائیر بیگ نہ لگے ہوں ۔اگر ایسے سخت قانون نہ بنائے گئے تو پچھلی حکومتوں کی طرح سب کچھ ایسے ہی کلیئر ہوتا جائے گا اور لوگ روزانہ کی بنیاد پرکیڑے مکوڑوں کی طرح مرتے رہیں گے یا زندگی بھر معذوری برداشت کرتے رہیں گے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں