19

عنوان :والدین مضمون نگار:بنت یامین لاھور

والدین کاساتھ ایک بہت بڑی نعمت ہے ،ان کےہوتے ہوئے انسان ہر فکر و غم سے آزاد ہوتا ہے،وہ اپنے بچوں کے لئے ایک گھنے سایہ دار درخت کی طرح ہوتے ہیں ہر تکلیف دکھ درد خود اٹھا لیتے ہیں لیکن بچوں کو آنچ تک نہیں آنے دیتے ،ان کی محبت بے لوث ہوتی ہے ،وہ بغیر لالچ اور غرض کےاپنی اولاد کے لیے دعا کرتے ہیں ،گھر کی رونق اور برکت ان کے دم سے ہو تی ہے ،
اور والدین کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کی اولاد نیک اور سعادت مند، خدمت گزار ہو ،اورنیک نامی میں ان کا نام روشن کرنے والی ہو،وہ ان کی تربیت اور ان کے آرام کا اپنی حیثیت سے بڑھ کر خیال رکھتےہیں ہر والدین کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ ان کی اولاد کو کسی قسم کی تکلیف کا سامنا نہ ہو،

اوراتنا سب کرنے کے بعد اولاد پر والدین کے حقوق ہوتے ہیں ،والدہن کا بڑا حق ہے اس لیے بچوں کو یہ حق سمجھنا چاہئے ان کے ساتھ حسن سلوک، اطاعت فرمانبرداری، خدمت اور اچھا برتاؤ کرنا چاہیے ،

حسن سلوک میں ماں کو باپ پر فوقیت دینا :
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلمن نے ماں کے ساتھ حسن سلوک کا تین مرتبہ حکم دیا اس کے بعد باپ کا ذکر فرمایا عورت درد زہ کی جو تکلیف برداشت کرتی ہے ،اگر بیٹا ماں کو کاندھے پر بیٹھا کر طواف و حج کرائے تب بھی ان کا حق ادا نہیں ہو سکتاماں بچے کے حمل،ولادت، دودھ اور دیکھ بھال و تربیت کے سلسلہ میں باب سے زیادہ مشقت برداشت کرتی ہے ،اس لیے اس کے ساتھ باب سے زیادہ حسن سلوک کا حکم دیا گیا_ویسے بھی فطرتاماں محبت پیار اور شفقت میں باب سے زیادہ ہوتی ہے ،بچہ ماں کی محبت ،رحم دلی، مامتا کو دیکھ کر کبھی اس کے حق میں آسانی برتنے لگتا ہے،اس لیے شریعت اسلامیہ نے ماں کے ساتھ زیادہ حسن سلوک کا حکم دیا ،بچہ ماں کا کتنا ہی نافرمان کیوں نہ ہو لیکن اسے آفت و مصیبت میں دیکھ کر وہ سب کچھ بھول جاتی ہے اسے سینے سے لگا لیتی ہے _
ترجمہ:
اور حضرت ابوطفیل ؓ کہتے ہیں کہ جعرانہ میں، میں نے دیکھا کہ رسول اللہ گوشت تقسیم فرما رہے ہیں کہ اچانک ایک خاتون آئیں جب وہ آنحضرت ﷺ کے پاس پہنچیں تو آپ نے ان کے لئے اپنی چادر مبارک بچھا دی اور وہ اس پر بیٹھ گئیں میں نے ان کے ساتھ آنحضرت ﷺ کا یہ حسن سلوک دیکھا تو لوگوں سے پوچھا کہ یہ خاتون کون ہیں؟ انہوں نے بتایا کہ یہ آنحضرت ﷺ کی وہ ماں ہیں جنہوں نے آنحضرت ﷺ کو دودھ پلایا تھا۔

تشریح
حدیث میں جن محترم خاتون کا ذکر ہے وہ دایہ حلیمہ ہیں جن کو آنحضرت ﷺ کی رضاعی ماں ہونے کا شرف حاصل ہے ۔

والدین کے ساتھ نیکی اور حسن سلوک کے آداب:
ماں باب سے آگے نہ چلیے ، نام لے کر نہ پکاریں، جس چیز پر ان کی نظرہو اسے استعمال نہ کریں، ان سے اونچی جگہ پر نہ بیٹھیں، ان کے حکم کی خلاف ورزی نہ کریں ،ان کے ساتھ نرمی سے پیش آئیں، انہیں جھڑکیں مت ان کی طرف تیز نگاہ سے نہ دیکھیں اور انہیں برا بھلا مت کہیں_
ترجمہ:
اور حضرت ابوامامہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ اولاد پر ماں باپ کا کیا حق ہے؟ آنحضرت ﷺ نے فرمایا تمہارے ماں باپ تمہارے لئے جنت بھی اور۔۔۔۔۔ دوزخ بھی۔ (ابن ماجہ)

تشریح
اس ارشاد کے ذریعہ بڑے بلیغ انداز میں ماں باپ کی اہمیت اور ان کی عظمت شان کو ظاہر فرمایا گیا ہے کہ وہ تمہارے لئے جنت کی راہ بھی آسان کرسکتے ہیں اور تمہیں دوزخ کا مستوجب بھی بتاسکتے ہیں چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ اولاد پر ماں باپ کا حق یہ ہے کہ ان کی رضا مندی اور خوش نودی کو بہر صورت ملحوظ رکھا جائے جو جنت میں جانے کا ذریعہ ہے اور ان کی نافرمانی سے اجتناب کیا جائے جو دوزخ میں جانے کا باعث۔ حاصل یہ ہے کہ اگر اطاعت و خدمت کے ذریعہ ماں باپ کو راضی و خوش رکھو گے تو جنت میں جاؤ گے اور اگر نافرمانی و لاپرواہی کے ذریعہ ماں باپ کو ناخوش رکھو گے تو دوزخ میں جاؤ گے،

والدین کی نافرمانی سخت گناہ :
ایک صاحب کے انتقال کا وقت آیاان کی زبان سے کلمہ جاری نہیں ہو رہا تھا ،نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا گیا آپ نے پوچھا کہ ان کے والدیں زندہ ہیں ؟بتلایاگیاماں موجودہے،آپ نے ان سے ان صاحب کے حالات پوچھے انہوں نے تعریف کی ،سخی اور عابد بتلایا ،فرمایا تمہارے ساتھ کیسا برتاؤ تھا ؟عرض کیا میں اس سے ناراض تھیں اس لیے کہ وہ اپنی بیوی کو مجھ پر ترجیح دیتا تھا ،فرمایا ماں کی ناراضگی نے اس کی زبان کو کلمہ شہادت پڑھنے سے روک دیا ،پھر فرمایا اے بلال رضی اللہ عنہ جا کر لکڑیاں جمع کرکے آگ دہکاؤ تاکہ اس نوجوان کو اس میں ڈال دیا جائے ،عورت نے کہا اے اللہ کے رسول آپ میرے جگر گوشے کو میرے سامنے آگ ڈالیں گے ؟
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اسے معاف کر دو اس سے راضی ہو جاؤ ،تم اسے جب تک معاف نہیں کروں گی اس وقت تک اس کی نماز ،روزہ صدقہ اسے کچھ فائدہ نہیں دے گا ،عورت نے اسے معاف کر دیا اور فور ان صاحب کی زبان سے کلمہ جاری ہوگیااور انتقال کرگئے ،آپ نے نماز جنازہ کے بعد قبر کے کنارے کھڑے ہو کر فرمایا جو شخص بیوی کو ماں پر فوقیت دے گا اس پر اللہ تعالی کی لعنت ہے،نا اس کی نفلی عبادت قبول ہوگی نا فرض _
اللہ سبحان و تعالی ہمیں والدین کی نافرمانی سے بچائیں اور ان کی خدمت کرنے کی توفیق دے ،تاکہ ہماری اولاد بھی اسی طرح سے ہماری خدمت کرے ہماری فرمانبرداری کرے آمین

بنت یامین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں