38

تحصیل کونسل پر میونسپل کارپوریشن بہت زیادہ نہیں تو جزوی حد تک اثر انداز ہوگی….. تحریر علی امجد چوہدری

تحصیل کونسل پر میونسپل کارپوریشن بہت زیادہ نہیں تو جزوی حد تک اثر انداز ہوگی تحصیل کونسل جھنگ میں اور بھی بہت سارے کردار شامل ہو جاتے ہیں مثلاً صوبائی وزیر مہر اسلم بھروانہ افتخار خان بلوچ سید چراغ اکبر شاہ مخدوم فیصل صالح حیات محترمہ صغری امام کرنل غضنفر قریشی مہر خالد محمود سرگانہ مولانا آصف معاویہ سیال صاحبزادہ امیر سلطان نواب خرم سیال مہر نواز بھروانہ شامل ہیں
یہاں بھی دلچسپ مقابلہ متوقع ہے تحصیل ناظم کے لیئے محترمہ صغری امام کی متوقع انٹری نے بھی ممکنہ مقابلہ کو خاصی حد تک دلچسپ کر دیا ہے یہاں بھی دو سے زیادہ گروپ ہونگے متوقع گروپس محترمہ صغری امام غلام بی بی بھروانہ کا حمایت یافتہ امیدوار شیخ گروپ مولانا احمد لدھیانوی گروپ افتخار خان بلوچ اور سید چراغ اکبر شاہ گروپ مہر خالد سرگانہ گروپ صاحبزادہ گروپ اور مہر اسلم بھروانہ گروپ لیکن یہاں جوڑ توڑ ہونے کے بعد گروپس کی تعداد تقریباً نصف ہو سکتی ہے
یہاں مہر خالد محمود سرگانہ مہر نواز بھروانہ مولانا آصف معاویہ افتخار خان بلوچ پر مشتعمل بڑا گروپ بھی تحصیل نظامت کے لیئے سامنے آ سکتا ہے جسے اہلسنت والجماعت کے سربراہ مولانا احمد لدھیانوی کی بھی بھرپور حمایت مل سکتی ہے فرض کریں یہ گروپ سامنے آتا ہے ایسی صورت میں یہ مضبوط گروپ بن سکتا ہے جو حویلی بہادر شاہ سے لے کر چنیوٹ اور سرگودھا کی حدود کے ساتھ منسلک تحصیل جھنگ کی حدود میں تقریبا تمام جگہوں پر ووٹ کا حامل ہے اس گروپ کی تشکیل میں آئیندہ انتخابات کا منظر نامہ بھی شامل ہوگا افتخار خان بلوچ کی کوشش ہوگی کہ تحصیل نظامت کے الائینس کے زریعے این اے 114 میں اپنی صاحبزادی محترمہ علیشاءافتخار کے لیئے مولانا احمد لدھیانوی کی حمایت حاصل کر سکیں اور یوں اس حمایت کے بدلے این اے 114 میں اہلسنت والجماعت کا ہزاروں ووٹ افتخار خان بلوچ کی جھولی میں آ سکتا ہے سابق ایم پی اے مہر خالد محمود سرگانہ بھی اس بلدیاتی انتخابات میں آئندہ عام انتخابات میں کامیابی کی راہ میں ممکنہ رکاوٹوں کو ختم کرنے کی کوشش کریں گے مولانا آصف معاویہ سیال کی حمایت کے بعد آئیندہ عام انتخابات میں وہ اپنے راہ کی رکاوٹ کو ختم کر سکتے ہیں اور حویلی بہادر شاہ جیسے علاقہ میں اپنے مدمقابل کرنل غضنفر قریشی کے حریف مخدوم خضر حیات شاہ گروپ کو تقویت فراہم کر سکتے ہیں لیکن اس گروپ کی طرف سے تحصیل ناظم کا امیدوار کون ہو سکتا ہے یہ اب بھی سوالیہ نشان ہے ؟؟
یہ امیدوار بھروانہ گروپ میں سے بھی ہو سکتا ہے اور شہری علاقہ میں ووٹ بینک کے حامل محترمہ راشدہ یعقوب شیخ صاحب کے گروپ سے بھی اہلسنت والجماعت کے سربراہ مولانا احمد لدھیانوی تحصیل کونسل کی بجائے میونسپل کارپوریشن جھنگ کو ترجیح دیں گے اس کے بدلے وہ جھنگ کے مختلف حلقوں میں امیدواران کی حمایت کے لیئے تیار ہو جائیں گے
مولانا کے پاس دو آپشنز ہو سکتے ہیں مہر نواز بھروانہ اور راشدہ یعقوب شیخ گروپ یہاں شیخ گروپ کو ترجیح دی جا سکتی ہے اور مولانا آصف معاویہ سیال مہر خالد محمود سرگانہ مہر نواز بھروانہ افتخار خان بلوچ کی حمایت کے بعد راشدہ یعقوب شیخ گروپ یہ فیصلہ کر سکتا ہے کہ میونسپل کارپوریشن جھنگ کی بجائے تحصیل کونسل جھنگ میں اپنا امیدوار اتارے اگر یہ گروپ اسی طرح ترتیب پا جاتا ہے ایسی صورت میں جھنگ میونسپل کمیٹی کے سابق چیئرمین مہر خالد محمود سرگانہ اہلسنت والجماعت کے میئر کے امیدوار کے لیئے مزید آسانیاں پیدا کر سکتے ہیں تحصیل کونسل کے لیئے دوسرا بڑا گروپ شیخ وقاص اکرم کا ہو سکتا ہے جس میں نواب خرم سیال مہر خالد محمود سرگانہ (اگر وہ پہلے گروپ کا حصہ نہ بنے تو ) اور مخدوم فیصل صالح حیات شامل ہو سکتے ہیں یہ گروپ بھی ایک مضبوط گروپ ہو سکتا ہے تاہم اگر مہر خالد محمود سرگانہ اس گروپ کا حصہ نہ بنے تو یہ گروپ وننگ پوزیشن سے جزوی حد تک دور ہوگا
تیسرا گروپ صاحبزادہ گروپ کی شکل میں ہوگا جس میں صاحبزادہ امیر سلطان کرنل غضنفر قریشی مہر اسلم بھروانہ اور غلام احمد گاڈی شامل ہونگے یہ بھی ایک مضبوط گروپ ہوگا یہاں محترمہ غلام بی بی بھروانہ کی حکمت عملی بھی اہم کردار ادا کرے گی جھنگ میں وفاقی وزارت کی خواہش مند محترمہ غلام بی بی بھروانہ وزارت نہ ملنے کے بعد شاید تحصیل نظامت حاصل اپنے گروپ کے لیئے حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں امکان غالب ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی قیادت تحصیل نظامت محترمہ غلام بی بی بھروانہ کی جھولی میں ڈال کر انہیں compensate کرنے کی کوشش کرے اگر ایسا ہوا تو صاحبزادہ گروپ بھی محترمہ غلام بی بی بھروانہ کی حمایت پر مجبور ہو سکتا ہے اور صوبائی وزیر رائے تیمور بھٹی کی حمایت بھی مل سکتی ہے اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ گروپ بھی غیر معمولی طاقت کا حامل ہو گا
لیکن اگر ایسا نہیں ہوتا تو تحصیل نظامت میں سب سے بڑا امتحاں رکن قومی اسمبلی محترمہ غلام بی بھروانہ کے لیئے ہوگا اور شاید انہیں اس اتحاد کے محترمہ صغری امام اوت رائے تیمور بھٹی پر مشتمل الائینس کی تشکیل کے مراحل سے گزرنا پڑے
تاہم ابھی انتخابات میں تین ماہ کا عرصہ باقی ہے آنے والے چند دنوں میں صورتحال واضح ہوتی جائے گی

تحریر علی امجد چوہدری

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں