61

*تعلیمی* *اہمیت* *و* **افادیت* ایم صدیق سیال سے تعلیم کا لفظ علم سے نکلا ہے جسکا مطلب ہے۔جاننا۔آگاہی۔سمجھ اور بوجھ۔ علم کی ایک ایسی جامع تعریف جسکو تمام مذاہب کائنات بھی بھی تسلیم کرتے ہیں وہ یہ ہے۔ کائنات میں موجود تمام اسرار و رموز جنکو طبیعاتی یا مابعدالطبیعیاتی۔تصوریاشکل۔ الہام۔مشاہدہ۔وحی۔جزباتی۔ بصری۔حسی کوکلی یاجزوی طور پرماننےکانام علم ہے۔علم کے تین ماخذ ہیں

*تعلیمی* *اہمیت* *و* **افادیت*
ایم صدیق سیال سے
تعلیم کا لفظ علم سے نکلا ہے جسکا مطلب ہے۔جاننا۔آگاہی۔سمجھ اور بوجھ۔
علم کی ایک ایسی جامع تعریف جسکو تمام مذاہب کائنات بھی بھی تسلیم کرتے ہیں وہ یہ ہے۔
کائنات میں موجود تمام اسرار و رموز جنکو طبیعاتی یا مابعدالطبیعیاتی۔تصوریاشکل۔ الہام۔مشاہدہ۔وحی۔جزباتی۔ بصری۔حسی کوکلی یاجزوی طور پرماننےکانام علم ہے۔علم کے تین ماخذ ہیں
ا۔ تنزیل مطلب وحی۔الہام۔کتب و صحائف
2۔فلسفہ(انسانی شعور وعقل پر مبنی تشکیل شدہ تصور)
3۔ سائنس جو کہ رموز کائنات کو تجربہ اور مشاہدہ کی بنیاد پر محصول ہونے والا علم
علم کے چار(04) مدارج ہیں
تقلید۔تحقیق۔تنقیداور تخلیق
کسی بھی سادہ کاغذ پر لکھے الفاظ انسانی شعور یا عقل سے ملنے والی معلوم چیز انسان کے لۓ تقلید ہوتی ہے۔انسانی تجسس کے ذریعے مختلف معلومات کا ادراک تحقیق کہلاتا ہے۔افکار و نظریات کی بنیاد پر انسان کے اندر تنقید پیدا ہوتی ہے۔اور تنقید و تحقیق کا کمال حقیقت انسانی کے اندر تخلیق پیداکرتا ہے۔یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ ہم انسانوں کو جو تمام مخلوقات پر برتری حاصل ہے وہ علم کی وجہ سے ہے۔ علم ایک لازوال و بے مثال دولت ہے۔ علم کو چرایا نہیں جا سکتا بلکہ علم بانٹنے سے اور تقویت حاصل کرتا ہے۔اگر ہم ہی علم ہوتے ہوۓ جانوروں سے بد تر کام کریں یا احمکانہ سوچوں کو اپناۓ رکھیں تو پھر ہمارے سے جانور ہزارہادرجے بہتر ہیں۔
قرآن مجید فرقان حمید کے قریباً 78000 الفاظ ہیں سب سے پہلا لفظ جو اللہ تبارک و تعالیٰ نے نبی سرور پر وحی کیا تھا وہ اقرا تھا جس کامطلب پڑھنے کےہیں اور قرآن مجید کی تقریباً چھے ہزار آیتوں میں سے سب سے پہلے جو آیتیں نازل ہوئیں وہ علم کی اہمیت و افادیت کی عکاس ہیں۔
قرآنی احکامات جو علم کی اہمیت پر زور دیتے ہیں وہ یہ ہیں۔
1۔ پڑھ اپنے رب کے نام سے جس نے انسان کو تخلیق کیا۔
2۔کیا اہل علم و جاہل برابر ہو سکتے ہیں۔
3۔اللہ تعالیٰ تم میں سے ان لوگوں کے درجے بلند کرتا ہے جو ایمان لاۓاورعلم حاصل کیا۔
4۔وہ جنہیں علم دیاگیا رب کریم ان کے درجات کو بلند فرماۓ گا۔
5۔اللہ کے بندوں میں سے اہل علم ہی اس سے ڈرتے ہیں۔
6۔اے ہمارے رب ان میں ایک رسول بھیج جو انہیں آیات مقدسہ سناۓ اور کتاب و حکمت کی تعلیم دے۔
حدیث نبوی سے علم کی اہمیت ان الفاظ سے واضح ہوتی ہے۔
1۔حصول علم ہر مسلمان مرد و عورت پر فرض ہے
2۔میں علم کا شہر ہوں
3۔ علم ماں کی گود سے لیکر قبر تک حاصل کرو
4۔ علم حاصل کرو اگر چہ تمہیں چین جان پڑے۔
5۔ علم نبیوں کا ورثہ ہے
6۔ اللہ تعالیٰ علم کی تلاش کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے
7۔ بچپن میں علم حاصل کرنا ایسا ہے جیسے پتھر پر لکیر
8۔ دو بھوکے ایسے ہیں جو کبھی سیر نہیں ہوتے ایک علم کا بھوکا دوسرا دولت کا بھوکا۔
9۔ علم روشنی ہے
10۔حصول علم ہرحالت میں فرض ہے یعنی چاہے فقیروغنی ہوصلح وجنگ ہو۔جوانی و بڑھاپا ہو۔صحت و بیماری ہو۔
11۔اس مسلمان پر افسوس ہے جو پوری زندگی میں ایک دن بھی اپنے دینی امور میں غور فکر کرنے اور دینی سوال کرنے میں صرف نہیں کرتا۔
کچھ اقول زریں جو علم کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں
1.کچھ نہ کچھ سیکھے بغیر تو آپ کتاب بھی نہیں سیکھ سکتے۔
2. تعلیم وہ ہے جو تب بھی باقی رہتی ہے جب آپ مکتب میں سیکھی ہوئ ہر بات بھلا چکے ہوتے ہیں۔
3.ایک محبت کرنے والا دل تمام علوم کا آغاز ہے۔
4. علم کی جستجو جس حالت میں بھی کی جاۓ عبادت کی ایک شکل ہے۔
کسی بھی قوم و ملت کی خوشحالی و ترقی کا دارو مدار علم پر ہوتا ہے۔ جہاں تعلیم کا دور دورہ ہوتا ہے وہاں قومیں دنیا کے لوگوں اور انکے دلوں پر راج کرتی ہیں علم کا کمال یہ بھی ہے کہ جب انسان جہالت سے نکل کر علم کی آگاہی کی طرف لپکتا ہےاور بنی آدم کو تفہیم و شعور بخشتا ہے تو ذات لم یزل اس پر علم کے دروازے کھول دیتی ہے۔اوروہ بلا تعطل کامیابیوں سے نوازا جاتا ہے۔ تعلیم کی اہمیت کا اندازہ ہم اس بات سے بھی لگا سکتے ہیں کہ حضور سرور کونین نے غزوہ بدر کے قیدیوں کو دس دس مسلمانوں کو پڑھانے پر رہا کردیا تھا۔انتہائ افسوس اور خون دل میں قلم ڈبو کر لکھنا پڑھ رہا ہے آج اس ترقی یافتہ دور میں ہمارے سماج و معاشرے کی قومی یا سرکاری سطح پر پستی وتنزلی کی وجہ تعلیم سے دوری ہے۔ مولاۓ کائنات مولا علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کا فرمان کوئ خزانہ علم سے زیادہ مفید نہیں ہے تاریخ شاہد ہے خوش نصیب ہے وہ شخص جو اپنےگھر سے نکلا اور علم کے دروازے بنی نوع انسان کے لیے کھول دئیے۔ قرآن وحدیث کے مطابق لوگوں کو تعلیم حاصل کرنے اور کائنات کے اسرار و رموز کی دعوت دینے والوں کے لیے دنیا میں آسودگیوں اور آخرت میں عظیم اجر کی نویددی گئ ہے تو پھر آئیں ہم ملکر حصول علم کے لیے کوشاں ہوں اور دوسروں کو بھی علم کی افادیت سے آگاہ کریں۔
آخر میں سرمایہء افتخار و عارف کے الفاظ کے ساتھ کالم کو سمیٹوں گا
لکھنا نہیں آتا تو میری جان پڑھا کر
ہو جاۓ گی تیری مشکل آسان پڑھا کر۔
لکھنے کو اگر تجھے کچھ نہ ملے تو
چہروں پہ لکھے درد کے عنوان پڑھا کر۔
لاریب تیری روح کو تسکین ملے گی تو قرب کے لمحات میں قرآن پڑھا کر
آجاۓ گا تجھے اقبال جینے کا قرینہ
تو سرور کونین کے فرمان پڑھا کر۔
خالق دو جہاں ہمیں دین و دنیا کی بھلائیاں نصیب فرماۓ۔آمین ثم آمین
نام:طارق خلیل بھروانہ
کالم نگاری ٹائٹل: دعاۓ خلیل
ای میل آئی ڈی: khaliltariq56@gmail.com

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں