69

جھنگ پولیس کی غنڈہ گردی کوریج کرنے پر صحافیوں پر تشدد موبائل فون چھین کر توڑ دیا جیب سے صحافی کا پرس نقدی اور ضروری کاغذات نکال لئے گئے

جھنگ(اظہرعباس جنجوعہ)جھنگ پولیس کی غنڈہ گردی کوریج کرنے پر صحافیوں پر تشدد موبائل فون چھین کر توڑ دیا جیب سے صحافی کا پرس نقدی اور ضروری کاغذات نکال لئے گئے تفصیلات کے مطابق جماعت اسلامی کی طرف سے احتجاج کی کوریج کرنے والے صحافی ملک فرحان علی پر نادرا آفس کے سامنے ایس ایچ او کوتوالی عثمان لاشاری ارباب سمیجہ SI ,اسد نواز SI ,انچارج چوکی سول لائن ،انچارج چوکی علی آباد واصف علی خان نول ،ڈی ایس پی سیف اللہ بھٹی زیشان حیدر انچارج چوکی مگھیانہ نے فرحان علی پر تشدد شروع کر دیا صحافی فرحان علی نے بتایا کہ وہ احتجاج کی کوریج کر رہے تھے لیکن عثمان لشاری نے فرحان علی کا موبائل مالیت 26000 روپے چھین کر ڈنڈے مار مار کر توڑ دیا اس موقع پر دوسرے صحافی پولیس والے کو بتانے کی کوشیش کرتے رہے کہ ہمارے صحافی کو کیوں مار رہے ہیں لیکن ڈی ایس پی اور ایس ایچ او نے کسی کی نہ سنی پولیس نے فرحان علی کی داڑھی بھی نوچی اوران پر سوٹوں مکوں تھپڑوں کی بارش کردی دوسرے صحافی عباد علی شاہ کا موبائل بھی پولیس نے توڑ دیا بعدازاں ڈسٹرکٹ پریس کلب کے جنرل سیکرٹری مہر نوید سدھانہ اور دیگر صحافی موقع پر آگئے انہوں نے احتجاج کیا تو تھانہ کوتوالی کے ایس ایچ او عثمان لشاری اور سٹی سرکل کے ڈی ایس پی سیف اللہ بھٹی نے ان کی منت سماجت شروع کردی ڈسٹرکٹ پریس کلب جھنگ اور ڈسٹرکٹ یونین آف جرنلسٹس کے تمام ممبران نے آئی جی پنجاب آر پی او فیصل آباد ڈی پی او جھنگ سے زمہ دار پولیس کے خلاف نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے اور کہا کہ اگر ہمیں انصاف نہ ملا تو پورے پاکستان میں احتجاج کی کال دے دی جائے گی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں