76

اسلامی خدمات سے سرشار، ریاست پاکستان کا فخر۔۔۔۔!!

ایک فوجی دورحکومت میں پاکستان کی تاریخ میں دین محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کے اصل رموز و افکار اور تمام مکاتب فکر کیلئے معتدل امن پسند محبت اور بھلائی کے پیغام کو پرچار کرنے والا اسلامی چینل لاونچ ہوا۔ اس اسلامی چینل کے لاونچ کے بعد شیخ الحدیث، مفتیان کرام، پیرعظام، اسلامی اسکالرز اور فلاسفی ڈاکٹروں نے اس چینل کے پلیٹ فارم سے عام عوام کو تعلیمات دین الہی، تعلیمات شریعت و طریقت کے حسن سے نکھارا، تمام سلاسل کے بزرگان دین کی تبلیغ کی مشتہر میں نایاب خدمات پیش کیں، میں خوش نصیب ہوں کہ مجھے اس وقت جب یہ اسلامی چینل لاونچ ہونے والا تھا تو مجھےچینل کے مالک نے منتخب کرتے ہوئے میری خدمات اس اسلامی چینل میں لے لیں، حقیقت تو یہ ہے کہ آج بھی میرے دل و دماغ میں ان مالکان اور ادارے یعنی چینل کیلئے محبت، پیار، خلوص، چاہت اور عزت ہے جبکہ گزشتہ سال چینل کے مالکان کو گمراہ کرکے چند ایک افسران نے سینئر ترین، مخلص ترین، دیانت و ایماندار ترین ملازمین کو جاب سے فارغ کردیا، ان لوگوں میں بیشتر ایسے ملازمین تھے جن کے دامن دودھ کی مانند سفید اور شفاف تھے جنھوں نے اپنی جوانی اس ادارے کی ترقی اور خوشحالی میں صرف کردی کم تنخواہ لینے پر شکر گزار رہے اور ہمیشہ چاہا کہ ادارہ پھولے پھلے بحرحال اس مذہبی چینل کی دنیا بھر میں دھوم مچ گئی خاص کر غیر مسلم ممالک میں رہائش پزیر مسلمانوں کیلئے مشعل راہ کا سبب بنی اور وہاں کے مسلم کمیونٹی نے اس مذہبی چینل کو اپنے بچوں بچیوں کو دکھاکراسلامی معاشرے کی آگاہی فراہم کی۔معززقارئین!!سابق جنرل پرویز مشرف کے میڈیا انڈسٹری کو آزاد اور نجی شعبے میں فروغ کے کردار کو ہمیشہ اچھے لفظوں میں یاد رکھا جائیگا،جنرل پرویز مشرف کے دور میں میڈیا انڈسٹری میں ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں لوگوں کو روزگار میسر آیا لیکن بعد کی جمہوری حکومتوں میں اسی میڈیا انڈسٹری سے ڈاون سائزنگ کے نام پر بیشمار بیروزگار کیئے گئے،میرایہاں بیروزگاری موضوع نہیں البتہ یہ بات امر ہے کہ اس ڈاون سائزنگ سے بیشتر قابل اور پروفیشنلز افراد کی شدید کمی واقع ہوئی ہے کیونکہ ڈاون سائزنگ کا کوئی کرائٹیریا نہیں رکھا گیا زیادہ تر نااہل اور ان پروفیشنلز کو زیادہ فائدہ پہنچا ہے اس سے کوالٹی اور معیار بہت گرگیا ہے۔معزز قارئین!! پاکستان کا سب سے پہلا اور سب سے بڑا سٹلائٹ چینل اےآروائی ڈیجیٹل تھا جو سن دوہزار میں لاونچ ہوا اور پہلا سٹلائٹ اسلامی چینل کیو ٹی وی ہی تھا جو سن دوہزار دو میں لاونچ ہوا میں اسی اسلامی چینل اےآروائی کیو ٹی وی کی بات کہ رہا ہوں، کیو ٹی وی کی مقبولیت کو دیکھ کر بھارت کے اسلامی اسکالر ڈاکٹر ذاکر نائک نے بھی اپنا اسلامی چینل پیس ٹی وی لاونچ کیا پھر ایک منافق بہروپیہ دو نمبری شخص حنیف گلیسی نے اپنے بیلک روپیہ کو وائٹ کرنے کیلئے حق ٹی وی لاونچ کیا جو چند ایک سال میں ہی ختم ہوکرغیر قانونی طور پر 92چینل میں تبدیل ہوگیااس کےبعد برطانیہ میں پیر علاوالدین صدیقی رحمة اللہ علیہ نے نور کے نام سے اسلامی چینل لاونچ کیا اس بعد دعوت اسلامی نے مدنی چینل کے نام سے اسلامی چینل لاونچ کیا جو ابھی تک جاری ہے، بھارت سے لاونچ ہونے والے پیس ٹی وی کو بھارتی حکومت سے بندش لگا رکھی ہے گو کہ اس وقت اسلامی چینلز میں اےآروائی کیو ٹی وی اور مدنی چینل بھرپور انداز سے اسلامی خدمات ہیش کررہے ہیں، مدنی چینل صرف ایک طبقے یعنی مسلک اہلسنت بریلوی جماعت پر محیط ہے یہی طریقہ کار پیس ٹی وی کا تھا وہ بھی ایک مسلک پر قائم تھا اور ہے جبکہ شروع دن سے ہی دنیا کا واحداسلامی چینل کیو ٹی وی تمام مکاتب فکر و مسلک کی ترجمانی بلکہ یوں کہ لیجئے کہ قرآن و سنت کی صحیح ترجمانی کا مرکز رہا ہے، کیو ٹی وی نے ہمیشہ مسلک کی تنگ نظری سے ہٹ کر احترام، باہمی رشتوں کے حقوق جنمیں فقہ قانون و شریعت اور نفسیات شامل ہیں اہمیت و فوقیت دی۔ صراط المستقیم اور عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور محبان اولیاء کرام کی تعلمیات سے روشن کیا، کل بھی کیو ٹی وی دنیا بھر کے مسلمانوں کا پسندیدہ چینل تھا اور آج بھی ہے اور انشااللہ ہمیشہ رہیگا، میں اپنے یوٹیوب چینل نیوز ڈیسک ود جاوید صدیقی کی پوری ٹیم کی جانب سے اےآروائی نیٹ ورک کے مالکان جناب حاجی جان محمد گاندھی میمن صاحب، جناب حاجی اقبال گاندھی میمن صاحب، جناب حاجی عبدالروف گاندھی میمن صاحب، جناب سلمان اقبال گاندھی میمن صاحب، جناب شعیب جان محمد گاندھی میمن صاحب، جناب محبوب روف گاندھی میمن صاحب، جناب محسن شفیع گاندھی میمن صاحب تمام معززین کو بہترین میڈیا میں خدمات پر مبارکباد اور شاباش پیش کرتے ہیں انکی پاکستان محبت اور دین سے لگاو پر خراج تحسین بھی پیش کرتے ہیں دعا ہے کہ اللہ انہیں اسی طرح پاکستان اور دین اسلام کی خدمت پیش کرنے کی طاقت بخشے آمین ثما آمین ۔۔۔۔ جاوید صدیقی جرنلسٹ، کالمکار، محقق، تجزیہ نگار، مبصر کراچی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں