68

شورکوٹ (میاں ندیم انور سے ) پرائیویٹ سکولز کے نظام کو سمجھنے کی ضرورت ہے پاکستان جرنلسٹ ایسوسی ایشن شورکوٹ کے چیئرمین چوہدری ساجد اشرف گجر، ان کا کہنا تھا کہ پرائیویٹ سکولز اپنی بیسک انویسٹمنٹ کے ذریعے تعلیمی ادارے قائم کرتے ہیں اور وہاں معیاری تعلیم کے لیے اچھے اساتذہ کا انتخاب کرتے ہیں اور اچھے استاد اچھی تنخواہوں پر ہی دستیاب ہوتے ہیں چنانچہ اسکول میں اچھے اساتذہ، اچھی سہولیات (بلڈنگ ،لیبارٹریز،اینوائرمنٹ،سسٹم) کی فراہمی کی بنیاد پر سٹوڈنٹس فیس کا تعین کرتے ہیں، چوہدری ساجد اشرف گجر

شورکوٹ (میاں ندیم انور سے ) پرائیویٹ سکولز کے نظام کو سمجھنے کی ضرورت ہے پاکستان جرنلسٹ ایسوسی ایشن شورکوٹ کے چیئرمین چوہدری ساجد اشرف گجر، ان کا کہنا تھا کہ پرائیویٹ سکولز اپنی بیسک انویسٹمنٹ کے ذریعے تعلیمی ادارے قائم کرتے ہیں اور وہاں معیاری تعلیم کے لیے اچھے اساتذہ کا انتخاب کرتے ہیں اور اچھے استاد اچھی تنخواہوں پر ہی دستیاب ہوتے ہیں چنانچہ اسکول میں اچھے اساتذہ، اچھی سہولیات (بلڈنگ ،لیبارٹریز،اینوائرمنٹ،سسٹم) کی فراہمی کی بنیاد پر سٹوڈنٹس فیس کا تعین کرتے ہیں، پھر ہر والدین سے فیس کی ماہانہ وصولی کے بعد تمام اخراجات کئے جاتے ہیں جن میں سرِ فہرست اساتذہ کی تنخواہوں کی ادائیگی ، نان ٹیچنگ سٹاف ( جن میں کلاس فور کے ملازم بھی شامل ہیں جن کا چولہا صرف اسی تنخواہ پر چلتا ہے ) کی تنخواہوں کی ادائیگی،بلڈنگ کا کرایہ،یوٹیلٹی بلز کی ادائیگی شامل ہے۔کورونا وائرس کی وبا اور لاک ڈاؤن نے جہاں دیگر شعبہ ہائے حیات کو متاثر کیا ہے وہاں پرائیویٹ تعلیمی اداروں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔مارچ کے درمیان میں سکول بند کردئیے گئے اپریل اور مئی کے مہینوں میں بھی سکول بند چلے آرہے ہیں حکومت نے فیسوں میں بیس فیصد رعائت کا اعلان کیا تو اکثریت سکولوں نے اسی رعائتی فیس کے ساتھ فیس جمع کروانے کے پیغامات دئیے ۔میری معلومات کے مطابق بہت زیادہ فالو اپ کے باوجود والدین کی صرف پندرہ سے بیس فیصد تعداد نے فیس جمع کروائی ہے جس کی وجہ سے اساتذہ کو تنخواہوں کی ادائیگی میں مشکل پیش آرہی ہے چند بڑے سکولوں نے ماہ اپریل کی تنخواہیں اپنی بچتوں میں مکمل طور پر اپنے اساتذہ و سپورٹ سٹاف کو ادا کی اور اب ماہ جولائی میں انہیں پھر شدید مشکل کا سامنا ہے
ہم والدین عید کی شاپنگ کے لئے پیسے خرچ کرسکتے ہیں
ہم اپنے گھروں میں تقاریب کے لئے پیسے خرچ کررہے ہیں
دیگر تمام اخراجات کررہے ہیں
اگر ہمارے پاس پیسے نہیں ہیں تو اپنے بچے کی فیس کی ادائیگی کے لئے نہیں
جب ہم سکول کو فیس نہیں دیں گے تو وہ کس طرح ہمارے بچوں کے استاد کو تنخواہ دے پائیں گے
مزید برآں حکومت نے بچوں کو محنتی اور غیر محنتی بچوں کا فرق ختم کرتے ہوئے بلا امتحان اگلی جماعتوں میں پروموٹ کرنے کا اعلان کردیا ہے جس سے محنتی بچے تو پریشان ہیں ہی مگر سکول والدین بھی مزید مشکل میں آگئے ہیں بہت سارے والدین سارے سال فیس ادا نہ کرنے والے امتحان سے قبل رولنمبر سلپ کی وصولی کے وقت بقایا جات ادا کرتے تھے اور اب ان سے ان بقایا جات کی وصولی بھی ایک مشکل مرحلہ ہے
بطور شہری ہمیں اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے اور اپنی سماجی ذمہ داری ادا کرنے کی ضرورت ہے
آئیے ہم والدین اگر چاہتے ہیں ہمارے بچے بہترین ماحول میں معیاری تعلیم حاصل کرتے رہیں تو ہمیں ان پرائیویٹ سکولوں کو دشمن کی نگاہ سے دیکھنے کے بجائے درج بالا حقائق کی روشنی میں دیکھنا ہوگا اور ان پرائیویٹ سکولوں کو رواں دواں رکھنے کے لئے فیس اور سکول واجبات فوری ادا کرنے ہونگے وگرنہ ان سکول مالکان اور اساتذہ کے گھروں میں عید کی خوشیاں متاثر ہونے کے ہم ذمہ دار ہونگے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں