31

شورکوٹ ( میاں ندیم انور سے) شورکوٹ پاکستان جرنلسٹ ایسوسی ایشن کے صدر لالہ شہباز نے کہا کہ میں اکثر سوچتا ہوں کہ اگر صحافی بھی نہ ہوتے تو غلامی نے انت مچا رکھی ہوتی چھوٹے چھوٹے شہروں میں اکثر صحافی بغیر کسی معاوضہ کے کام کرتے ہیں اسکے باوجود کچھ لوگ سمجھتے ہیں جیسے یہ صحافی انکے زر خرید ہیں۔ لالہ شہباز

شورکوٹ ( میاں ندیم انور سے) شورکوٹ پاکستان جرنلسٹ ایسوسی ایشن کے صدر لالہ شہباز نے کہا کہ میں اکثر سوچتا ہوں کہ اگر صحافی بھی نہ ہوتے تو غلامی نے انت مچا رکھی ہوتی چھوٹے چھوٹے شہروں میں اکثر صحافی بغیر کسی معاوضہ کے کام کرتے ہیں اسکے باوجود کچھ لوگ سمجھتے ہیں جیسے یہ صحافی انکے زر خرید ہیں۔ سوچا جائے تو آپ ووٹ سیاستدانوں کو دیتے ہیں لیکن آپکے مسائل مخلص صحافی اجاگر کر رہے ہوتے ہیں بغیر کسی معاوضہ کے اور لوگوں سے دشمنیاں بھی پال رہے ہوتے ہیں ہرصحافی بکاؤ نہیں ہوتا بلکہ چھوٹے چھوٹے شہروں میں صحافی اپنے بچوں کا پیٹ کاٹ کر آپکے مسائل اجاگر کرنے کیلئے جیب سے خرچ کررہے ہوتے ہیں ایسے مخلص لوگوں کو آپ اور کچھ نہیں دے سکتے تو کم ازکم انکی حوصلہ افزائی ضرور کریں کیونکہ کوئی بھی تخلیق کار ہو حوصلہ افزائی اسکے ارادوں کو پختہ کرتی ہے اور اسی حوصلہ افزائی کی بدولت وہ اپنی منزل کیطرف رواں دواں رہتا ہے

*دعاؤں کا طالب*
*لالہ شہباز صدر پاکستان جرنلسٹ ایسوسی ایشن شور کوٹ کینٹ*

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں