36

شورکوٹ( میاں ندیم انور ) جمعیت علماء اسلام ضلع جھنگ کا ایک اہم اجلاس ضلعی امیر مولانا قاری محمد طارق کی صدارت میں منعقد ہوا۔اجلاس سے مولانا محمد اقبال حیدری،مولانا قاری محمد طارق، مولانا نورالدین، مولانا موسیٰ کلیم، نصر اللہ ڈھڈی، عبدالرحمن عزیز، پروفیسر محمد اقبال و دیگر نے ایجنڈے پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔اجلاس سے جے یو آئی مرکزی شوریٰ کے ممبروصوبائی ڈپٹی جنرل سیکرٹری شہباز احمد گجر ایڈووکیٹ نے تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے مرکزی جماعت کی پالیسی سے آگاہ کیا اور کہا کہ موجودہ حکومت ہر شعبے میں بری طرح ناکام ہو رہی ہے۔

شورکوٹ( میاں ندیم انور ) جمعیت علماء اسلام ضلع جھنگ کا ایک اہم اجلاس ضلعی امیر مولانا قاری محمد طارق کی صدارت میں منعقد ہوا۔اجلاس سے مولانا محمد اقبال حیدری،مولانا قاری محمد طارق، مولانا نورالدین، مولانا موسیٰ کلیم، نصر اللہ ڈھڈی، عبدالرحمن عزیز، پروفیسر محمد اقبال و دیگر نے ایجنڈے پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔اجلاس سے جے یو آئی مرکزی شوریٰ کے ممبروصوبائی ڈپٹی جنرل سیکرٹری شہباز احمد گجر ایڈووکیٹ نے تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے مرکزی جماعت کی پالیسی سے آگاہ کیا اور کہا کہ موجودہ حکومت ہر شعبے میں بری طرح ناکام ہو رہی ہے۔ عوام کی حالتِ زار پر کوئی توجہ نہیں دی جارہی ہے۔دن بدن مہنگائی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ پٹرولیم کی قیمتوں میں یکمشت اضافہ نے عوام کے دکھوں میں اضافہ کیا ہے مگر حکمرانوں کو مندروں اور گردواروں کی تعمیر کی فکر لگی ہوئی ہے۔ اقلیتوں کو مکمل احترام اور آزادی ان کا حق ہے اور اسلام اس کا سب سے بڑا علمبردار ہے مگر سامراجی قوتوں کے دباؤ میں آکر اس قسم کے اقدامات ناپسندیدہ عمل ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ صوبہ پنجاب انفراسٹکچر مکمل طور پر تباہ ہو کر رہ گیا ہے۔کرونا وبا نے ریاستی اداروں کی کارکردگی کو سرِبازار برہنہ کر کے رکھ دیا ہے۔ ہسپتالوں میں وینٹی لیٹر تک موجود نہیں ہے جس کی ماضی و حال کی حکومتیں ذمہ دار ہیں۔ اجلاس میں مطالبہ کیا گیا کہ بوائز اور خواتین یونیورسٹی کو ضم نہ کیا جائے دو خود مختار یونیورسٹیا ں (خواتین و بوائز) جھنگ کی ضرورت ہے ان کا انضمام نوجوانوں کے خلاف سازش ہے یہ اقدام واپس لیا جائے۔ مؤثر SOP’sکے ذریعے دینی مدارس اور تعلیمی ادارے کھولے جائیں۔اجلاس میں مولانا پیر عزیز الرحمن ہزاروی و دیگر عقابرین کی وفات پر تعزیت کا اظہار کیا اور جے یو آئی پنجاب کے ڈپٹی سیکرٹری چوہدری ضیاء الحق کی والدہ،ملک ابو بکر کی والدہ دیگر جماعتی دوستوں کے فوت شدگان کے لیے دعائے مغفرت کی گئی اور تنظیم سازی کو مزید بڑھانے کے لیے فیصلہ کیا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں