40

اسامہ بن لادن ہلاک یا شہید

تحریر محمد تیمور آفاق

مورخہ ۲۵ جون ۲۰۲۰ کے دن وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے قومی اسمبلی میں ایک طویل تقریرکی ۔اس تقریر میں عمران خان نے اسامہ بن لادن کا ذکر بھی کیا کہ۲ مئی ۲۰۱۱ کو ایبٹ آباد میں امریکیوں کے ہاتھوں اسامہ بن لادن کی ہلاکت پاکستان کے لیے سبکی اور ہزمیت کا باعث بنی ۔ عمران خان کے مطابق امریکیوں نے اسامہ بن لادن کو شہیدکیا۔ وزیر اعظم پاکستان کے اسامہ بن لادن کو شہید کہنے پر اپوزیشن لیڈر خواجہ آصف اور دیگر اپوزیشن لیڈرز نے ان پر شدید تنقید کی کہ پاکستان کا وزیر اعظم ایک دہشت گرد کو شہید قرار دے رہا ہے۔
پاکستان میں شہادت کی ایک لمبی تاریخ ہے۔قیام پاکستان کے وقت ایک بہت بڑی آبادی کے انخلاء کے دوران اکثر مسلمانوں کو شہادت کا مقام ملا۔ اس کے بعد یوں محسوس ہوتا ہے کہ بانی پاکستان حضرت قائداعظم محمد علی جناح کو بھی شہید کیا گیا۔ پھر۱۹۵۱ میں پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان شہادت سے ہمکنار ہوے یوں یہ شہادت کا سلسلہ چلتا رہا ۔۴اپریل کو اس وقت کے وزیر اعظم ذوافقارعلی بھٹو کو پھانسی دے کر ہلاک کر دیا گیا۔ بھٹو کے چاہنے والوں نے انہیں شہید کہا جبکہ مخالفین ان کی شہادت کو تسلیم کرنے سے انکاری رہے۔اس کے بعد بہاول پور کی فضاؤں میں پاکستان کے صدر جنرل ضیاءالحق کا طیارہ تباہ ہوا جس میں صدر پاکستان کے ساتھ بہت سی فوجی اعلی قیادت بھی شہید ہو گی۔ ضیاءالحق کے چاہنے والوں نے انہیں شہیدقرار دیا اور مخالفین ان کی شہادت کو تسلیم نہیں کرتے۔جب ۲۷ دستمبر۲۰۰۷ میں بینظر بھٹو کو دہشت گردی کے ایک واقعے میں ہلاک کیا گیا تو پاکستانی قوم یہاں تک کے بہت سے مذہبی رہنماؤں نے بھی انہیں شہید تسلیم کیا۔ لیکن حتمی طور پر یہ صرف الله پاک کی ذات جانتی ہے کہ شہید کون ہے اور کون نہیں۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ دنیا بھر میں اسامہ بن لادن کو دہشت کی علامت سمجھا جاتا تھا اور دنیا میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو اسے محبت اور عقیدت کا مرکزسمجھتے ہیں- وزیر اعظم پاکستان عمران خان کے اسامہ بن لادن کے مطالق بیان کے بعد امریکی، یورپی اور انڈین میڈیا نے ہنگامہ برپا کیے رکھا اور ایک دہثت گرد کو شہید کہنے پر ان پے شدید تنقید کی گئی۔ یہ بات درست ہے کہ ایبٹ آباد کے واقعے سے پاکستان کی بڑی سبکی ہوئی۔یہ واقعہ جس وقت پیش آیا اس وقت ملک میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت تھی، یوسف رضا گلیلانی وزیر اعظم، اور آصف علی ذرداری ملک کے صدر تھے۔ بعض شواہد سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ امریکیوں کی کارگزاری اس وقت کی حکومت کی منظوری سے ہوئی۔
ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے امریکیوں کے ہاتھوں ہلاکت کی تحقیقات کے لیے حکومت پاکستان نے ایک کمیشن بھی بنایا تھا اور اس کمیشن کے سربراہ موجودہ چیرمین نیب ڈاکٹر جاوید اقبال تھے ۔ اس کمیشن نے تحقیقات کے بعد اپنی رپورٹ حکومت پاکستان کے حوالے کر دی تھی، جس کو آج تک پبلک نہیں کیا گیا ۔ اگر رپورٹ پبلک ہو جاتی تو ا س بات کا طین بھی ہو جاتا کہ کمیشن میں اسامہ بن لادن کو ایک دہشت گرد کہا گیا ہے یا شہید سمجھا گیا ہے۔ اس بات کو سمجھنے کے لیے بن لادن کی زندگی میں جھانکنا پڑے گا۔ اسامہ بن لادن، بن لادن کمپنی کے ملک کا بیٹا تھا ۔ اس نے مختلف تعلیمی اداروں سے اعلی تعلیم حاصل کی۔دوران تعلیم ہی اس کے ایک ٹیچر نے اس کی برین واشنگ کیااور اس کو عیش و عشرت کی زندگی ترک کر کےجہاد کی طرف راغب کیا۔
۲۶ دستمبر ۱۹۷۹ کو روسی افواج افغانستان میں داخل ہوہیں جس کو اسامہ بن لادن نے ایک اسلامی ملک پر غیر ملکی کفار کے تسلط جمانے کے طور پر دیکھا اور جہاد کے لیے افغانستان آگیا۔ امریکہ چونکہ روس کے اس اقدام کو اپنے مفاد کے خلاف سمجھتا تھا اس لیے اس نے نہ صرف اسامہ کی حوصلہ افزائی کی بلکہ ہر طرح سے اس کی مدد بھی کی اور یوں اسامہ امریکی حکومت کی آنکھ کا تارہ بن گیا۔ روس کی شکست کے بعد افغانستان میں طالبان کی حکومت قائم گئ اور امریکا نے اب مجاہدین کی مدد بند کر دی اسامہ کے طالبان کے ساتھ بڑے اچھے تعلقات تھے۔اسی دوران امریکہ میں ۹ ستمبر ۲۰۰۱ کو ایک انتہای المناک واقعہ پیش آیا، ہوا کچھ یوں کہ امریکہ سے چند مسافر بردار طیاروں کو اغواء کر کے امریکہ کی اہم عمارتوں سے ٹکڑایا گیا جس سے ہزاروں لوگ ہلاک ہوے ۔ امریکہ نے اس واقعے کا ذمہ دار اسامہ بن لادن کو ٹھہرایا اور افغانستان میں قائم طالبان کی حکومت سے اسامہ بن لادن کو امریکہ کے حوالے کرنے کا کہا لیکن طالبان نے اسامہ کو امریکہ کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا۔ امریکہ نے پاکستان کے صدر پرویز مشرف سے لاجسٹک سپورٹ کے لیے کہا ، پرویز مشرف نے امریکہ کو ہر قسم کے امداد کی یقین دہانی کروائی۔ یوں پاکستان کی امداد سے امریکہ افواج نے افغانستان پر حملہ کر دیا۔ ۱۱جولائی۲۰۰۷ کو اسلام آباد میں قائم لال مسجد کا واقعہ پیش آیا ، جس میں ڈکٹیٹر پرویز مشرف کے ایما پر ایکشن لیا گیا اور سینکڑوں مرد و عورت شہید ہوے اور پھر پاکستان میں دہشت گردی کے دور کا آ غاز ہو گیا، جس میں تقریبا ستر ہزار پاکستانی دہشت گردی کے مختلف واقعات میں شہید ہوے۔ چونکہ اسامہ بن لادن بھی ان دہشت گردوں کا ساتھی سمجھا جاتا تھا اس لیے پاکستان کی اکثریت اہلسنت والجماعت سواداعظم اسامہ بن لادن کو شہید نہیں سمجھتی۔ لیکن دیو بند وہابی مسلک کے پیروکار انہیں شہید قرار دیتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں