31

بہتری بھی دیکھو

تحریر: سحرش رانا
کرونا وائرس کے منفی معاشی اور معاشرتی اثرات کے بارے میںجس سے انکار نہیں کیا جاسکتا اس میں کوئی شک نہیں کہ کوئی نون کے نتیجے میں پوری دنیا کے معاشی تو کے تباہ کن اثرات برآمد ہوئے رہے ہیں تاہم موجودہ صورتحال سے کچھ مثبت باتیں بھی سامنے آئی ہے زمین کی سطح سے 19 کلومیٹر اوپر اور 48 کلومیٹر کی بلندی پر ایک ہے جسے اردو لیرک کہتے ہیں جو سورج سے آنے والی الٹراوائلٹ ریز کو روکتی ہے یہ طاقت کے لیے کینسر کا سبب بنتی ہے دنیا میں بڑھتی ہوئی ماحولیاتی آلودگی کے باعث تباہ ہورہی تھی اور اس میں کمی ہو رہی تھی اور ہوا میں موجود آکسیجن کے ساتھ مل کر سی او ٹو میں تبدیل ہو جاتی ہے جو کہ زون پر منفی اثر انداز ہوتی ہیں گزشتہ 25 سال سے سائنسدان اس کوشش میں تھے کہ آرزو لے کو تباہ ہونے سے روکا جاسکے مگر ہوئی ترقی اس مسئلہ کو حل نہ کر سکی پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ جائے اس کی موٹائی میں اضافہ ہو رہا ہے
اس کے علاوہ اٹلی کے شہر وینس جیسے دریاؤں کا شہر کہا جاتا ہے اس شہر کا پانی بہت آلودہ ہو چکا تھا مگر لوگ ٹاؤن کے مثبت اثرات کی وجہ سے پانی آلودگی سے پاک ہو گیا کرونا وائرس نے ہمارے ماحول میں اتنا مثبت اثر ڈالا ہے کہ یورپ میں گرین ہاؤس گیس کے اخراج میں 24.4 فیصد کمی واقع ہوگی

عالمی سطح پر ہمارے سامنے آنے والی تمام مایوس کن خبروں اور افسوسناک وقتوں کے بیج ماحول اور آلودگی پر غور کیا جارہا ہے جنوبی ایشین خطے میں ہوا کے معیار کی سطح بدترین ہے بنگلہ دیش پاکستان اور بھارت سب سے زیادہ آلودہ ممالک کی فہرست میں پہلے پانچ میں شامل ہیں لیکن گزشتہ مہینوں کے دوران دنیا بھر میں کرونا وائرس پھیلنے کی وجہ سے ہوا کے معیار میں بہتری لوگ ڈاؤن کے بطور پر روشنی پڑتی ہے ہےشاید ہی کوئی سنجیدہ توجہ حاصل کرتی ہے جو کہ دنیا کوچونکہ دنیا کو یہ بہت احساس ہوا ہے کہ اپنے کاروباری کام دور دراز بیٹھ کر بھی کر سکتے ہیں جس سے بہت سا وقت بچا جاسکتا ہے اور ملازمین کے لیے دباؤ میں کمی بھی ثابت ہوتی ہے اس احساس سے ہم کو بچا یا کے خاتمے کے بعد بھی اپنے گھر بیٹھ کر سکتے ہیں جاری رہا تو اس سے بھی کم ہو سکتی ہے جو اس سینٹربرائے بیماریوں کے کنٹرول اور روک تھام کے مطابق دنیا بھر میں ہر روز37003افراد روڈ ٹریفک حادثات میں ہلاک ہوتے تھے
کرونا وائرس جیسی سنگین بیماری کے ساتھ ساتھ انفلوئنزا وائرس بھی متحرک رہا ہے کرونا وائرس سے مقابلہ کرتے کرتے انفلوئنزا وائرس کے منتقلی کو روکا گیا ایس او پیز پر عمل کرکے اس وائرس کی وجہ سے ہونے والے کیسز میں بھی کمی آئی ہے کورونا وائرس کی بیماری سے لڑتے ہوئے کسی حد تک سانس کی دیگر بیماریوں سے بھی بچا جا رہا ہے
کرونا وائرس کی وجہ سے لگایا گیا لوگ ڈاؤن خاندانوں کو بھی آپس میں جوڑ لیا بہت سے طلباء اور طالبات گھروں سے دور ہوسٹلز میں زندگی گزارنے پر مجبور تھے مگر آج ان کو گھر والوں کے ساتھ خوبصورت لمحات گزارنے اور یادیں بنانے کا موقع ملا ہے اوراور جو والدین دونوں جو بین تھے جو اپنے بچوں کو وقت نہیں دے پاتے تھے آج وہ اپنے بچوں کے ساتھ خوبصورت بھی گزار رہے ہیںکرونا وائرس کی وجہ سے لگایا گیا یہ لوگ ڈاؤن جہاں غریب عوام کے لئے دشوار رہا وہیں ان کی ذمہ داریاں پوری کرنے میں مدد گار ثابت بھی ہوا غریب لوگ جو غربت کے ڈر سے بڑی برات کو کھانا نہیں کھلا سکتے تھے آج وہ ہنسی خوشی چار بندوں میں اپنی بیٹی رقص کر رہے ہیں غربت عوام کے لیے شادیاں کرنا آسان ہوگیا
امید ہے کہ کرونا وائرس جلد ختم ہو جائے گا اور زندگیاں اپنے معمول پر آجائے گی۔ اور اگر ہم متحد ہوکر کھڑے ہو جائے تو اس میں کوئی شک نہیں کہ انسانیت اس مرض پر قابو پا جائے گی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں