41

“انسانوں کے معاشرے میں جانوروں جیسا سلوک”

تحریر :- شہزاد
اے خدا ! اس ملک پر رحم فرما- یہ فضل و کرم تو خدائے مہربان کا ہے جس کی وجہ سے زندگی کا یہ سفر رواں دواں ہے. اور اگر ہم آنحضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت نہ ہوتے تو ہم پر بھی وہی دردناک عذاب مسلط کر دیے جاتے جو ہم سے پہلے لوگوں پر رونما ہوئے تھے
اپنے موضوع کی طرف آتا ہوں جس کی وجہ سے مجھے یہ کالم لکھنے کی ضرورت پیش آئی. ویسے تو ہمارا یہ ملک پاکستان اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا تھا تاکہ برصغیر کے اس خطے میں بسنے والے مسلمان اپنی زندگیوں کو دین اسلام کہ طور طریقوں کے مطابق بسر کر سکیں. لیکن بدقسمتی کےساتھ آج تک صحیح معنوں میں شریعت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کا نفاذ ممکن نہیں ہو سکا. انسانوں کے اس معاشرے میں ہمیں انصاف کے تقاضے پورے ہوتے دکھائی نہیں دیتے. یہی وجہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں عام لوگ اکثر قانون کو اپنے ہاتھ میں لیتے دکھائی دیتے ہیں. یہ بات کہنا کچھ غلط نہیں کہ ایک غریب آدمی کے لیے انصاف حاصل کرنا ہمارے ملک میں انتہائی مشکل تر ہو گیا ہے. یہی وجہ ہے کہ جب ایک عام آدمی کو انصاف نہیں ملتا تو اس بوسیدہ نظام سے مایوس ہوجاتا ہے اور قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش کرتا ہے. جس سے بے پناہ مسائل جنم لیتے ہیں. یہ ہمارے نظام کے لیے المیہ کی بات ہے کہ یہاں غریب کے لیے قانون کچھ اور اور امیر کے لئے کچھ اور ہے. ہمارے ملک کی اشرافیہ باآسانی پیسے دے کر کسی بھی کیس میں بری ہو جاتے ہیں جبکہ دوسری طرف ایک عام آدمی جس کے پاس دینے کے لیے پیسے نہیں ہوتے وہ تمام زندگی عدالتوں تھانوں اور کچہریوں میں پیشیاں بھگتے ہوئے گزار دیتا ہے.
ویسے تو ہم اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں لیکن بدقسمتی کے ساتھ جب انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کی باری آتی ہے تب بڑی بڑی کرسیوں پر بیٹھے حضرات بڑی آسانی سے یہ بات بھول جاتے ہیں کہ وہ کس مقصد کے لیے ان کرسیوں پر براجمان ہیں. ایک سچے مسلمان ہونے کی حیثیت سے ان حضرات کو چاہیے کہ وہ انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم زندگی سے رہنمائی حاصل کریں.
یہاں میں ایک قصہ بیان کرتا ہوں ایک مرتبہ قبیلہ بنو مخدوم سے تعلق رکھنے والی فاطمہ نامی عورت نے چوری کی جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں یہ معاملہ پیش کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے انصاف کے تقاضوں کے مطابق سزا سنا دی. صحابہ کرام نے حضرت اسامہ کو حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا. حضرت اسامہ نے حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سامنے اس فاطمہ نامی عورت کی سفارش کی کہ وہ بڑے قبیلے سے ہیں لہٰذا آپ اپنے فیصلے پر نظر ثانی فرمائیں. آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا:- ” تم سے پہلی امتیں اس لیے ہلاک ہوگئیں کہ جب ان میں سے کوئی غریب جرم کرتا تو اسے سزا دی جاتی اور جب امیر کوئی جرم کرتا تو اسے چھوڑ دیا جاتا خدا کی قسم اگر میری بیٹی فاطمہ بھی چوری کرتی تو میں اس کے ہاتھ بھی کاٹ دیتا”.
یہی وجہ ہے کہ ہمارے ملک میں آئے روز ہزاروں واقعات ایسے ملتے ہیں جس میں انصاف صرف امیر یا یا اچھا اثرورسوخ رکھنے والوں کو ملتا نظر آتا ہے اور دوسری طرف صرف عام آدمی کو دھکوں کے سوا کچھ نہیں ملتا.
کچھ عرصہ قبل صلاح الدین کے واقعہ نے سوشل میڈیا پر بڑی دھوم مچائی تھی. لیکن انتہائی افسوس کی بات ہے اس کیس میں بھی لواحقین کو انصاف نہ مل سکا اور دیگر کیسوں کی طرح انصاف کے تقاضوں کو پورا نہ کرتے ہوئے اس فائل کو بھی دیگر فائلوں کی طرح چھپا دیا گیا. آج بھی صلاح الدین کے لواحقین انصاف کے منتظر ہیں کہ شاید اللہ تعالی کی طرف سے کوئی انسان ان کا مسیحا بن کر آے اور ان کو انصاف دلوائے.
ہمارے معاشرے میں لوگوں کی ذہنی کیفیت یہ ہو چکی ہے کہ ہمیں ظلم ہوتا دکھائی ہی نہیں دیتا جب تک کوئی ہمارا اپنا تکلیف میں نہ ہو.
صلاح الدین کے کیس نے یہ ثابت کردی کہ اس ملک میں غریب کے لئے قانون کے تقاضے کچھ اور ہیں اور امیر کے لئے کچھ اور ہیں اور اگر ایسا نہ ہوتا تو کیا مجال تھی کہ پولیس کی حراست میں ایک انسان پر اتنا ٹارچر کیا جائے کہ اس کی موت واقعہ ہوجائے. ہمارے اس نظام پر بہت بڑا سوالیہ نشان ہے کہ اگر مجرم کا تعلق کسی امیر طبقے سے ہو اور وہ کسی جرم کی پاداش میں جیل میں رہ کر سزا کاٹ رہا ہو اور جیل کے جس سیل میں وہ مقیم ہے وہاں کا اگر ایئرکنڈیشن خراب ہو جائے تو وہ اکیلا بندہ پورے جیل کی انتظامیہ کو ہلا کر رکھ دیتا ہے. اور دوسری طرف ایک عام آدمی ہے جس کو بنیادی ضروریات ہی میسر نہیں. ان باتوں سے ہم اس بات کا اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ہم کس قدر انصاف کے تقاضوں کو پورا کر رہے ہیں.
چوتھے خلیفہ حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:- “کفر کے نظام سے ایک معاشرے کو چلایا جاسکتا ہے جب کہ انصاف کے بغیر کوئی بھی معاشرہ نہیں چل سکتا”.
اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے معاشرے پر اللہ تعالی کی رحمتوں کا نزول ہو تو ہمیں بلا تفریق رنگ و نسل قوم قبیلے خاندان اور فرقہ واریت سے بالاتر ہوکر انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنا ہوگا. اگر قانون کی نظر میں سب برابر ہونگے تب ہی ایک عظیم معاشرے کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے. میرا یہ کالم لکھنے کا مقصد صرف صلاالدین جیسے ایک عام آدمی کو انصاف دلوانا نہیں بلکہ اسی طرح کے ہزاروں لوگوں کو انصاف دلوانا ہے خواہ ان کا تعلق معاشرے کے امیر طبقے سے ہو خواہ غریب طبقے سے ہو کیونکہ انصاف حاصل کرنا ہر انسان کا بنیادی حق ہے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں