43

پانی خدا کی بڑی نعمت

تحریر: ابو بکر شریف
پانی خدا کی نعمتوں میں سے ایک عظیم نعمت ہے جس کے بغیر کہیں بھی جاندار از دور با مکن ایسے ہی پاکستان بھی ہمارے لیے خدا کی عطا کردہ نعمتوں میں سے ایک بڑی نعمت ہے ۔ یہاں ہم کھل کر سانس لیتے ہیں اپنی مرضی کی زندگی جیتے ہیں ۔ یہاں ہم اور ہماری نسلیں پروان چڑھ رہی ہیں اور قیامت تک زندگیاں پروان چڑھ رہی ہیں اور قیامت تک زندگیاں پروان چڑھتی رہے گی ۔ آج کل ہم ایک بات سن اور دیکھی رہے ہیں کی آئندہ پاکستان کو پانی کی کی کا مسئلہ درپیش ہے اور آئندہ چند سالوں تک پاکستان شد ید پانی کے بحران کا شکار ہوسکتا ہے – کیان قریب پاکستان میں پانی کی قلت ہوگی لوگ باند و دواتر سے لیں گے پھر اس ملک میں زندگیاں پیاس کی وجہ سے دم توڑ دے گی نہیں ایسانہیں ہو گا ھے الله پر پورا بھروسہ ہے اور میں پرامید ہوں کہ ہمارا ملک پاکستان کو اقبال کا خواب بزرگوں کی دعامیں لاکھوں معصوموں کی شہادتوں ، حضرت م کی بشارت اور خدا کی خاص عنایت سے حاصل ہوا ہو وہ یوں پیاسادہ نہیں توڑ سکتا ۔ اللہ نے اس ملک کو بہت سی نعمتوں سے نوازا ہے ۔ یہاں بے شما در این تالاب اور جیلیں ہیں یہاں چاروں موسم آتے ہیں ، یہاں بارشیں ہوتی ہیں اور ان بارشوں سے ہر سال 250 ملی میٹر تک پانی حاصل ہوتا ہے ۔ اس ملک میں گلیشیرز اور سمندر ہے جس ملک میں پانی کے قدرتی وسائل موجود ہو وہاں پانی کی کمی کا مسلہ ہونا جیب بات لگتی ہے ۔ لیکن آج کل پاکستان جو پانی کے مسئلے سے دوچار ہے اس کی وہ ہمارے لیڈروں کی ناقص حکمت عملی اورفقات نظر آتی ہے ۔ ان تصورات حکومت کا ہے وہیں ہم بھی اتنے ہی ذمہ دار ہیں کہ ہم خدا کی عطا کر درختوں کی قدرت کی اور نہ اس کا شکر ادا کیا ۔ یہ ہم پر خدا کی آزمائش ہے کہ ہم لوگ جان سکیں کہ پانی کی قدرو قیمت کیا ہے ، ہم جان لیں کی پیاس کو پانی سونے کے داموں فروخت کیا جائے تو و خریدنے سے دریغ نہیں کرے گا کیونکہ پانی زندگی ہے اور زندگی سے بڑھ کر کچھ ہیں ۔ ہمارے ملک میں پانی کی کمی نہیں ہوسکتی ۔ اگر ہم پانی کی کے بے دریغ استعمال اور اس کو ضائع ہونے سے بچالیں اور ضرورت کا پانی استعمال کریں ۔ اس ملک کو اب اپنے وزیراعظم عمران خان سے بہت امیدیں وابستہ ہیں ، سابق چیف جسٹس ثاقب نثار اور وزیر اعظم کی با ہم کوششوں سے جو بھاشا ڈیم پر کام شروع کیا گیا ہے جوقت کی اہم ضرورت تھی ۔ یہ منصوبہ 2025 میں پورا ہو کر رہے گا ، اور بیلہ اور منگلا میں بھی پانی کو ذخیرہ کرنے گنجائش کو بڑھایا جائے گا اور ہم حکومت کی نظر کالا باغ ڈیم کی طرف بھی ڈالنا چاہتے ہیں جو ملک پاکستان کے لئے ناگزیر ہے اس سے ہم ہر سال اپنا پانی جو سمندر کی نظر کر دیتے ہیں اسے اکٹھا کر کے بلوچستان اور سندھ کی زمین سیراب کر سکتے ہیں اور یہی پانی بھی بنانے میں بھی مفید ہوگا ۔ پاکستان جو قیامت تک قائم رہنے کے لیے بنا ہے اس ملک میں پانی کا مسلہ ہوتی ہے پر یہ نہیں ،

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں