139

“لاک ڈاوّن میں نرمی،خطرے کی گھنٹی”

تحریر : شفق نوروز
چلیں اب یہ تو ثابت ہوا کہ جان جانے کا خطرہ بھی ہمارے بے ہنگم پن کے راستے کی رکاوٹ نہیں بن سکتا۔ حکومت کی طرف سے لاک ڈاون میں نرمی بعد کے جیسے دریاوْں پر باندھے ہوئے تمام باندھ ٹوٹ گئے ہوں۔لوگ بغیر کسی ڈر وخوف کے عید کی شاپنگ میں مصروفِ عمل ہیں جیسے انھیں اس بات کا علم ہی نہ ہو کہ دنیا کس موذی وٙبا سے لڑ رہی ہے اور حالات کس قدر سنگین ہیں۔پاکستانی عوام انتہائی غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کررہی ہے۔
لاک ڈاوّن میں نرمی کے کچھ ہی دن بعد میرا گزر ایک بازار سے ہوا۔ میں اس بازار میں ہجوم دیکھ کر حیران رہ گئ۔ جدھر دیکھو سر ہی سر نظر آرہے تھے ۔۔یہ حالات دیکھ کر پریشان ہوئی کہ کس قدر جہالت ہے۔اتنے ہجوم میں چند ایک افراد نے ہی احتیاطی تدابیر اختیار کر رکھی تھی ۔۔ویسے ان چند افراد کو بھی احتیاط کرنے کا تکٙلف نہیں کرنا چاہیے تھا اس ہجوم میں کوئی فائدہ نہیں۔۔ماسک کیا؟ سماجی فاصلہ کیا ؟ ان چیزوں کا تصور بھی نہیں تھا۔کپڑوں کی دوکان پہ کھڑی خاتون کا موقف سُنیے زرا۔۔ محترمہ کا کہنا تھا “کرونا ورونا کچھ نہیں ہوتا۔ یہ میڈیا اور حکومت والے ڈرامہ کررہے ہیں اور خوف پھیلا رہے ہیں یہ سازش ہے بس اور کچھ نہیں۔۔”میں تو آیت الکرسی پڑھ کہ دم کرلیتی ہوں کچھ نہیں ہوتا اللہ وارث ہے۔۔ مجھے ہنسی بھی آئی۔۔ اور حیرت بھی ہوئی ۔ بدقسمتی سے جہالت نے ہمیں گھیرا ہوا ہے۔ شاید یہ موصوفہ اِٹلی اور امریکہ کے حالات سے واقف نہیں ہیں
اِٹلی نے بھی اسی طرح غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا تو آج کی مجموعی صورتِ حال یہ ہے کہ پازیٹو کیسیز کی تعداد 227.364 اور اموات کی شرح 32.330 ہو چکی ہے۔جبکہ دوسری طرف چین کی عوام نے حکومت کے ساتھ تعاون کیا۔ زمہ داری کا مظاہرہ کیا ۔احتیاطی تدابیر اختیار کیں۔ تو ان کے حالات بہتری کی طرف ہیں زندگی معمول پر آنا شروع ہوگئی ہے۔ حالات کنٹرول میں ہیں ۔ان دونوں ممالک کی مثال کو سامنے رکھتے ہوئے ہمیں آگے بڑھنا چاہیے۔لاک ڈاون میں نرمی کے بعد جو رش دیکھنے کو مِلا اور لوگوں کی رائے لینے کے بعد سوچنے پہ مجبور ہوں کہ کیا وجوہات ہو سکتی ہیں کہ عوام یہ ماننے کو ہی تیار نہیں کہ کرونا جیسی وبا کا کوئی وجود ہے بھی یا نہیں۔۔ کیا جب تک ان کا کوئی عزیز ، رشتہ دار اس بیماری کا شکار نہ ہوجائے کیا پھر یقین کریں گے؟
محکمہ صحت پنجاب کے اعدادوشمار کے مطابق رمضان المبارک میں کرونا کے نئے کیسیز واموات میں تین گُنا تک اضافہ ہوا ۔پاکستان میں تصدیق شدہ کروونا کیسیز کی تعدادتقریباً 49 ہزار ہےاور اموات لگ بھگ ایک ہزار ہے۔کروونا ایکسپرٹ ایڈوائزری گروپ کے رکن پروفیسر اسد اسلم کا کہنا ہے کہ لاک ڈاون میں نرمی سے عید تک کیسیز کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو گا۔ اس لیے پاکستانی عوام کو حکومت کے ساتھ تعاون کرنے کی ضرورت ہے احتیاط کرکے ہی خود کو اور دوسروں کو محفوظ رکھا جاسکتا ہے۔۔
“ذندگی رواں، زرا فاصلہ مہرباں
دور رہیں ۔۔محفوظ رہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں